بھارتی ریاست منی پور میں جاری فسادات کے دوران مختلف پرتشدد واقعات کے نتیجے میں 5 مزید شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست منی پور میں متعصبانہ فسادات شدت اختیار کر گئے۔ پرتشدد واقعات کی نئی لہر کے دوران 5افراد جان کی بازی ہار گئے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے ایک دوسرے پر رات گئے تک فائرنگ کی۔
بھارتی ریاست ہریانہ میں ہندو مسلم فسادات کی وجہ کیا ہے؟
منی پور حکام کا کہنا ہے کہ میٹی اور کوکی نامی قبائل کے مابین 3 مئی سے جاری پر تشدد فسادات کے دوران اب تک ہلاک افراد کی تعداد 160 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ نریندر مودی حکومت اور بھارتی میڈیا منی پور کو نظر انداز کرتا نظر آتا ہے۔
دریں اثناء بھارتی ریاست ہریانہ کے اضلاع نوح اور پلوال میں موبائل اور انٹرنیٹ کی بندش میں منگل تک توسیع کردی گئی۔ ضلع نوح میں 31 جولائی کے روز ہندو مسلم فسادات میں 6افراد کو قتل کردیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھارتی ریاست ہریانہ کے مسلم اکثریتی ضلع نوح میں ایک ہفتے کے دوران فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا جو دیکھتے ہی دیکھتے دیگر قریبی علاقوں میں بھی پھیل گیا۔
ضلع نوح میں بدامنی کا آغاز پیر کو اس وقت ہوا جب انتہا پسندوں نے نئی دہلی سے 75 کلومیٹر جنوب میں واقع مسلم اکثریتی ضلع نوح سے گزرنے والے ایک ہندو مذہبی جلوس پر پتھراؤ کیا اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








