وفاقی حکومت کی جانب سے عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے اعلان کے بعد ایک نیا تنازع سامنے آگیا ہے جس نے شہریوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق عید کے موقع پر 26 سے 28 مئی یعنی 9 ذوالحجہ سے لیکر 11 ذوالحجہ تک عام تعطیلات دی گئی ہیں جبکہ اسلام میں 10 ذوالحجہ سے لیکر 12 ذوالحجہ قربانی کا حکم ہے تاہم حکومت نے عید کے تیسرے روز دفاتر کھولنے کے احکامات جاری کیے جس پر عوامی سطح پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سرکاری اعلان کے مطابق عید الاضحیٰ کے دنوں میں چھٹیاں دی گئی ہیں لیکن ملک میں جاری کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری دفاتر جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو پہلے ہی بند رہتے ہیں جس کے باعث سرکاری ملازمین کو مجموعی طور پر چھ دن کی چھٹیاں ملنے کا امکان ہے۔ اس کے برعکس عام شہریوں کے لیے عید کے صرف دو دن کی چھٹیاں ہوں گی اور 29 مئی کو معمول کے مطابق دفاتر کھل جائیں گے۔

اس صورتحال پر عوام کی جانب سے مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا عید کی خوشیاں صرف سرکاری ملازمین تک محدود ہیں یا عام شہریوں کو بھی تیسرے دن چھٹی دی جائے گی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ عید الاضحیٰ کا تیسرا دن بھی قربانی اور مذہبی سرگرمیوں سے جڑا ہوتا ہے اس لیے اس دن کام پر جانا غیر مناسب محسوس ہوتا ہے۔
شہریوں نے وفاقی حکومت کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی میں یکسانیت نہیں ہے اور اس سے عوام میں ابہام پیدا ہو رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر نوٹیفکیشن پر نظرثانی کرے اور عید کی تعطیلات کو واضح اور یکساں طور پر تمام شہریوں کے لیے نافذ کیا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








