کراچی کی ایک عدالت نے 2020 میں بارشوں کے دوران کھلے نالے میں گر کر جاں بحق ہونے والے شہری کے کیس میں اورنگی ٹاؤن انتظامیہ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس کے اہلِ خانہ کے لیے 15 ملین روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے اس واقعے کو سرکاری غفلت کا نتیجہ قرار دیا۔
مقدمہ سینئر سول جج ویسٹ کی عدالت میں زیرِ سماعت تھا جس میں بارش کے دوران اورنگی ٹاؤن کے نالے میں گر کر جاں بحق ہونے والے شہری کے واقعے کا جائزہ لیا گیا۔ فیصلے میں عدالت نے ٹاؤن میونسپل کارپوریشن (TMC) اورنگی کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کو اس کیس میں ذمہ داری سے بری کر دیا۔
عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور موسمیاتی پیشگوئی کے نظام کی مدد سے بارش کی شدت اور ممکنہ صورتحال کا پہلے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے تاہم متعلقہ ادارے بروقت حفاظتی اقدامات کرنے میں ناکام رہے اور خطرناک مین ہول کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی پیشگی بندوبست نہیں کیا گیا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کی غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہی اس افسوسناک واقعے کی بنیادی وجہ بنا۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 2020 کی شدید بارشوں کے دوران متوفی عارف قریشی گھر واپس جا رہے تھے کہ وہ کھلے نالے میں گر گئے جس کے نتیجے میں انہیں شدید چوٹیں آئیں اور بعد ازاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔ وکیل کے مطابق نالہ ناقص دیکھ بھال اور انتظامی غفلت کے باعث کھلا چھوڑ دیا گیا تھا جو اس حادثے کی اصل وجہ بنا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








