ایس ایچ او سمیت 7 پولیس اہلکار درندے نکلے! جیکب آباد میں نابالغ لڑکی کی عزت لوٹ لی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

جیکب آباد میں ایک انتہائی تشویشناک واقعے میں تھانہ آر ڈی 52 کے ایس ایچ او سمیت سات پولیس اہلکاروں پر ایک بچی سے مبینہ زیادتی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ متاثرہ خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ ایس ایچ او اور دیگر چھ اہلکاروں نے اس کی پوتی کے ساتھ ناروا سلوک کیا جس کے بعد علاقے میں شدید صدمہ اور عوامی تشویش پھیل گئی ہے۔

واقعے کی رپورٹ کے مطابق، متاثرہ خاتون نے فوراً مقامی انتظامیہ کو اطلاع دی۔ سرکاری حکام نے اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی جیکب آباد سے تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ ان کے حکم پر ڈی ایس پی ٹھل کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو الزامات کی ہر پہلو سے جانچ کرے گی اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنائے گی۔

سندھ پولیس کے حکام نے بتایا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ملزمان کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے گا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق علاقے کے مکین اور متاثرہ خاندان شدید پریشانی اور خوف کے عالم میں ہیں اور عوامی ردعمل کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے اس معاملے میں فوری کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اس واقعے نے نہ صرف جیکب آباد بلکہ پورے سندھ میں پولیس کے اعتماد اور عوامی تحفظ کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں شفاف اور فوری تحقیقات نہ صرف متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کی ضمانت ہیں بلکہ عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے بھی ضروری ہیں۔

Related Posts