قانون پر عمل کا حلف اٹھانے والے جج کمزور لوگ ہوتے ہیں۔جسٹس فائز عیسیٰ

تازہ ترین

تازہ ترین

قانون پر عمل کا حلف اٹھانے والے جج کمزور لوگ ہوتے ہیں۔جسٹس فائز عیسیٰ

اسلام آباد: پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ قانون پر عملدرآمد کا حلف اٹھانے والے جج کمزور لوگ ہوتے ہیں جن کے ہاتھ آئین اور قانون کی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عدالتِ عظمیٰ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 2 رکنی ججز بنچ نے جائیداد کے تنازعے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز نے حلف اٹھایا ہے کہ قانون پر عملدرآمد کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:

کورونا میں مبتلا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طبیعت بہتری کی جانب گامزن

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ اور ریاستی ستونوں کی جنگ

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی فواد چوہدری کیخلاف توہین عدالت کی درخواست

ریمارکس کے دوران سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ججز نے اپنے حلف کے خلاف غیر قانونی چیزوں کو نظر انداز کرنا شروع کردیا تو ملک کا نظام تباہ ہوسکتا ہے۔ ججز کمزور ہوتے ہیں جن کے ہاتھ قانون اور آئین نے باندھے ہوئے ہیں۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون کو ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ ججز کا کام قانون بنانا نہیں، اس کی تشریح کرنا ہے۔ وکلاء ہماری معاونت کرتے ہیں۔ درخواست گزار کا حق ہے کہ اپیل کرے تاہم نظر ثانی جج کی صوابدید پر ہے۔ 

خیال رہے کہ اس سے قبل جسٹس قاضی فائز عیسٰی نظرثانی کیس میں سپریم کورٹ نے  تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ کیس کی تمام درخواستیں 6-4 کے تناسب سے منظور ہویں جبکہ جسٹس قاضی فائز کی انفرادی درخواست 5 ججز نے منظور جبکہ 5 نے خارج کی۔

اپریل کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ سنایا، جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس سجاد علی شاہ سمیت دیگر ججز بینچ کا حصہ بنے۔ 

Related Posts