وبا کی طرح پھیلتا ڈیپریشن/ دوسرا حصہ

تازہ ترین

تازہ ترین

 اس کی مفصل وضاحت میں انہوں جو کچھ کہا، اسے سن کر یوں لگا جیسے وہ میرے ہی احوال بیان کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان ایک سماجی جاندار ہے۔ اس کی سماجی سرگرمیاں جتنی بھرپور ہوں گی اتنا ہی یہ نفسیاتی طور پر متوازن اور مستحکم ہوگا۔ جتنی اس کی سماجی سرگرمی محدود ہوگی اتنا ہی اس کی نفسیات کا توازن بگڑے گا۔

2010 کے بعد سے ڈیپریشن نے ایسی وبائی شکل اختیار کرلی ہے کہ صرف امریکہ میں 39 فیصد شہری ڈیپریشن کا شکار ہیں اور یہی وہ عرصہ ہے جس کے دوران اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے کامبنیشن نے انسان کو تنہا کردیا ہے۔ جسے دیکھو فون پر مصروف نظر آتا ہے۔ عیادتیں اور تعزیتیں تک سوشل میڈیا پر ہو رہی ہیں۔

چھٹی کے وقت آفس سے نکلتے ہی سب پہلے اسمارٹ فون نکال کر سوشل میڈیا دیکھا جاتا ہے۔ ٹرام، ریل یا ٹیکسی سے گھر جاتے وقت بھی ہر شخص سوشل میڈیا میں ہی مگن ہوتا ہے۔ گھر جاتا ہے تو وہاں لیپ ٹاپ کھول کر سوشل میڈیا پر مصروف ہوجاتا ہے۔

اس کی سوشل میڈیا پر مشغولیت کے دوران کوئی بھولا بھٹکا مہمان آجائے تو کہلوا دیتا ہے کہ وہ گھر پر موجود نہیں۔ کوئی بچہ اپنا مسئلہ لے آئے تو اسے بھی ڈانٹ دیتا ہے کہ دیکھ نہیں رہے میں پوسٹ لکھ یا ریکارڈ کرا رہا ہوں ؟ اور اسے خوش فہمی یہ لاحق ہے کہ سوشل میڈیا نے اسے پہلے سے زیادہ سوشل کردیا ہے۔ حالانکہ یہ تنہائی کا شکار ہوچکا ہے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سماجی سرگرمیاں بھی دو طرح کی ہیں۔ ایک ضرورتاً سوشل ہونا مثلاً ڈیوٹی کے دوران دیگر لوگوں کے ساتھ موجود ہونا اور دوسری قسم وہ جس میں یہ اپنے “شوق اور ذوق” کے تحت سرگرم رہتا ہے۔ پھر اس کی بھی تین پرتیں ہیں۔

سب سے پہلی پرت سب سے قریبی لوگوں یعنی والدین اور بیوی بچوں کی ہے۔ دوسری پرت عزیز و اقارب کی ہے اور تیسری پرت دوستوں کی ہے۔ سوشل میڈیا نے اسے ان تینوں پرتوں سے کاٹ کر رکھدیا ہے جبکہ ان تین میں سے کسی ایک پرت سے بھی لاتعلق ہونا نفسیاتی توازن بگاڑنے کے لئے کافی ہے۔

تنہائی کا سب سے بڑا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ میل جول کی کمی سے تعلقات کی گرمی برقرار نہیں رہتی۔ ہمارا سب سے گہرا دوست اسی لئے تو ہمارا سب سے گہرا دوست ہوتا ہے کہ اس سے میل جول باقی لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ اگر سب سے گہرے دوست کے ساتھ بھی میل جول کم کردیا جائے تو بہت جلد وہ بھی سب سے گہرا دوست نہیں بلکہ محض شناسا بن کر رہ جائے گا۔

اب چونکہ اس کا میل جول نہایت محدود ہوچکا ہوتا ہے تو اپنے سرکل سے متعلق اس کی معلومات بھی اتنی ہی محدود ہوجاتی ہیں۔ یوں جب کسی کا رویہ اس کے ساتھ تبدیل ہوجائے تو وہ اس کی وجہ نہ تو دیکھ پاتا ہے اور نہ ہی سن پاتا ہے کیونکہ دیکھا اور سنا تو سماجی سرگرمی کے دوران جا سکتا ہے جو اس کی ختم ہوگئی ہے چنانچہ یہ رویے تبدیل ہونے کی وجوہات فرض کرنی شروع کردیتا ہے۔ اور اس باب میں بھی صرف منفی ہی سوچتا ہے۔ یہ تنہائی کا ہی لازمی نتیجہ ہوتا ہے کہ دماغ منفی انداز فکر کی طرف چلا جاتا ہے۔ منفی عمل کا نتیجہ بھی منفی ہی نکلتا ہے۔

مثلاً صبح دس بجے اس نے کسی دوست کو کال کی۔ اس نے کال ریسیو نہ کی تو یہ میسج کردیتا ہے کہ ضروری بات کرنی ہے، پلیز مجھے کال بیک کرلیں۔ رات دس بجے تک اسے کال نہ آئے تو یہ فرض کر لیتا ہے کہ جس قریبی رشتے دار یا دوست کو کال کی تھی اس کے دل میں میری کوئی اہمیت نہیں ورنہ کال کر لیتا۔ دوسری بار کال ملائی اور اس بار بھی یہی صورتحال رہی تو اب یہ فرض کرلیتا ہے کہ اس رشتے دار یا عزیز کے دل میں میری اہمیت ہی کم نہیں ہوئی بلکہ وہ مجھ سے نفرت بھی کرتا ہے، اسی لئے مجھ سے بات بھی نہیں کرنا چاہتا۔

معاملہ پھر یہیں رکتا نہیں بلکہ یہ سوچ کا دائرہ پھیلاتے ہوئے مزید ایسے افراد تلاش شروع کردیتا ہے جو اس کے خیال کے مطابق اس سے نفرت کرتے ہیں اور یوں شروع ہوجاتا کڑھنے کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ جو بتدریج شدت اختیار کرتا چلا جاتا ہے جس سے یہ چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتا ہے۔

چڑ چڑے پن کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس سے کنارہ کرنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں اس کا یہ تصور مزید پختہ ہوجاتا ہے کہ سب ہی اس سے نفرت کرتے ہیں۔ بات نفرت کے تصور پر بھی کہاں رکتی ہے۔ پھر وہ یہ بھی سوچنے لگتا ہے کہ یہ سب تو میرے خلاف سازشیں بھی کرتے ہوں گے۔ ذرا سا اس کا کوئی کام بگڑا نہیں کہ اس نے سازش کا عنصر تلاش بھی کرلیا۔ جس کا نتیجہ باقاعدہ لڑائی جھگڑے کی صورت نکلتا ہے۔ اور یہی ڈیپریشن ہے۔

جس کی شروعات اس کی سماجی سرگرمیاں ختم ہونے سے ہوئی۔ اگر یہ سماجی سرگرمیاں ترک نہ کرتا تو یہ فرض نہ کرتا کہ اس کے دوست کے دل میں اس کی اہمیت کم ہوگئی ہے یا وہ اس سے نفرت کرتا ہے بلکہ یہ مثبت انداز فکر پر چلتے ہوئے پریشان ہوجاتا کہ خدا خیر کرے دوست نے جوابی کال کیوں نہیں کی ؟، کہیں اسے کچھ ہو تو نہیں گیا ؟ اس مثبت انداز فکر کے نتیجے میں وہ متعلقہ لوگوں کو فون کرکے اس دوست کے احوال معلوم کرنے کی کوشش کرتا اور اس کے نتیجے میں اسے “خبر” مل جاتی کہ اس کا دوست حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔ مگر یہ سب تو وہ تب کرے جب اس کے پاس سوشل میڈیا سے سر اٹھانے کی فرصت ہو۔

لہٰذا ڈیپریشن کا واحد علاج یہی ہے کہ ایسا مریض اپنا یہ طرز حیات فوراً ترک کرے۔ وہ صرف اپنی سماجی سرگرمی کی سطح سوشل میڈیا سے قبل والے دور کے مطابق کرلے اس کا ڈیپریشن خود بخود دور ہوجائے گا۔ زیادہ نہیں تو اتنا ہی کرلیا جائے کہ جب شام کو سب لوگ گھر لوٹ آئیں تو کم از کم دو گھنٹے کے لئے گھر کا وائی فائی آف رکھیں ۔

اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ سب اپنے اپنے کمروں سے نکل کر خود بخود لاؤنچ میں جمع ہوجائیں گے۔ کوئی اعلان بھی نہیں کرنا پڑے گا کہ سب لاؤنچ میں آجائیں۔ وائی فائی بند ہونے کا لازمی نتیجہ یہی نکلے گا کہ سب لاؤنچ میں آجائیں گے۔ یوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیاں بھی ہوں گی، ایک دوسرے کے مسائل پر باہمی مشاورت بھی رہے گی، نئے آئیڈیاز بھی سامنے آئیں گے، حتی کہ اگر گپ شپ میں دو افراد کی آپس میں منہ ماری ہوجائے تو یہ بھی ایک تعمیری سماجی سرگرمی کا ہی رول پلے کرے گی کیونکہ روٹھنا اور منانا بھی عین فطری عمل ہے۔

یوں سوشل سرگرمی کی پہلی پرت اپنی درست حالت میں آجائے گی مگر صرف پہلی پرت سے بات نہیں بننی، پورے ساجی سسٹم کا اپنی فطری حالت میں بحال ہونا لازمی ہے۔ چنانچہ دوسری چیز یہ کی جائے کہ سوشل میڈیا کا جو محدود استعمال کیا جا رہا ہے اسے کسی صورت مہمان یا دوست پر ترجیح نہ دی جائے۔ اگر آپ پوسٹ لکھ رہے ہیں اور مہمان آجائے تو پوسٹ کو اسی حالت میں چھوڑ دیں اور مہمان کو وقت دیں۔ اگر آپ کا مہمان آپ کے ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر بھی اسمارٹ فون میں مشغول ہے تو اسے احترام کے ساتھ باور کرا دیں کہ اگر اس نے فون پر ہی مصروف رہنا ہے تو آپ پھر اپنے کمرے میں جا رہے ہیں، کوئی کام ہو تو بلا لیجئے گا۔

مگر یہ آپ تب ہی کرسکتے ہیں جب آپ خود بھی سمارٹ فون کو ملاقات کے دوران صرف فون موڈ پر کرکے بیٹھے ہوں۔ اگر آپ کے ہاں مہمانوں کی آمد و رفت کم ہوگئی ہے تو لوگوں کو باقاعدہ مدعو کرنا شروع کردیجئے۔ تاکہ آپ کی آپ کی سماجی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔ آپ کسی کو مدعو کریں گے تو وہ بھی آپ کو مدعو کرے گا۔ اور یہ سلسلہ سوشل ایکٹوٹی کی باقی ماندہ دونوں پرتوں یعنی عزیز و اقارب اور دوستوں دونوں ہی سطح پر چلتا ہے۔ فرق بس گرمی تعلق کا ہی ہوتا ہے۔

چنانچہ اس سے سماجی سرگرمی کی باقی دونوں پرتیں بھی پرانی شکل پر بحال ہوجائیں گی۔ جب آپ کا سب سے میل جو رہے گا تو آپ کو سب کی خبر بھی ہوگی۔ جب آپ دوسروں کی خوشی میں خوش اور غم میں غمگین ہوں گے اپنی فطری اور درست نفسیاتی حالت میں ہوں گے۔ اب کوئی روٹھے گا تو آپ کو اس کے روٹھنے کی وجہ گھر بیٹھے فرض نہیں کرنی پڑے گی بلکہ آپ کو وہ خبری طور پر ہی معلوم ہوگی۔ یوں آپ مفروضوں سے حقائق کی دنیا میں لوٹ آئیں گے جس سے آپ کڑھنے سے بچے رہیں گے۔

یہ سب سن کر مجھے یہی لگا جیسے میری فرد جرم ہی پڑھ کر سنائی گئی ہے۔ یہ سب میرے ساتھ پچھلے سالوں میں ہوا ہے بلکہ زیادہ شدت سے ہوا ہے کیونکہ بدقسمتی سے میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں فیس بک کے ہیوی ویٹس کہا جاتا ہے۔پچھلے آٹھ سال کے دوران میں اپنے گھر میں رہنے کے باوجود گھر کی بجائے فیس بک پر ہی بود باش کرتا رہا ہوں۔ دن میں چھ پوسٹوں کی تو اوسط رہی ہے۔ ورنہ دس دس پوسٹیں اور پھر ان پر آنے والے کمنٹس کے جوابات یا ردعمل میں باقاعدہ طویل پوسٹ، یہ سب چلتا رہا ہے۔

اس عرصے میں اپنے بچوں سے بس حال احوال لینے کی حد تک ہی بات ہوئی یا پھر ان میں سے کسی کا کوئی کام ہوا تو بقدر ضرورت بات کرلی۔ حد تو یہ ہے کہ عید کے ایام بھی سوشل میڈیا پر گزرے۔ چنانچہ وقت ضائع کئے بغیر اگلے دن سے اپنے گھر دو بڑے قوانین نافذ کردئے۔ ایک یہ کہ شام میں دو گھنٹے وفائی بند رکھنے کا معمول بنا لیا۔ اور دوسرا یہ کہ رات کے کھانے پر کوئی روم سروس نہیں چلے گی۔ سب ساتھ کھانا کھائیں گے۔

پہلے دن جب یہ عمل مکمل ہوچکا اور میں اپنے کمرے میں لوٹ آیا تو سوچنا شروع کیا کہ آج ہم نے ان ڈھائی تین گھنٹوں کے دوران کیا کیا ؟ یہ باقاعدہ سوچنا اس لئے پڑا کہ اس نشست میں جو کیا تھا وہ کوئی پری پلان نہ تھا بلکہ خود بخود ہوتا چلا گیا تھا۔ چنانچہ ہوا یہ تھا کہ جب میں لاؤنچ میں گیا تو ٹی وی پر ہالیووڈ کی ایک فلم چل رہی تھی۔ میرے سب سے چھوٹے بیٹے بیس سالہ وقاص نے اس پر کوئی تبصرہ کیا تو میں نے پوچھا
کیا تم جانتے ہو کہ فن اداکاری کیا ہے ؟
(جاری ہے)

Related Posts