حالیہ ہفتوں میں متحدہ عرب امارات یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے کئی ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں رہا جس کے جواب میں سعودی زیرقیادت عرب اتحاد نے شہری آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے یمن میں حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔یہ تنازعہ 2014 سے جاری ہے جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر کے صدر کو جلاوطنی پر مجبور کر دیا تھا۔
2015 میں سعودی قیادت میں اتحاد نے حوثیوں سے لڑنے اور خطے میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے فوجی مداخلت کی۔ اس تنازعے میں لاکھوں یمنی مارے گئے اور دنیا کے بدترین انسانی بحران نے جنم لیا۔
گزشتہ برسوں کے دوران حوثیوں نے سعودی عرب پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے اور تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ حالیہ ہفتے میں حوثیوں نے ابوظہبی تک اپنی رسائی بڑھا دی ہے جو ڈرون حملے کا نشانہ رہا ہے جبکہ ایک اور بیلسٹک میزائل کو اس علاقے میں مار گرایا گیا جب اسرائیلی صدر پہلی بار خلیجی ریاست کا دورہ کر رہے تھے۔
حوثیوں نے آخری بار 2018 میں بحیرہ احمر کے بندرگاہی شہر حدیدہ پر لڑتے ہوئے متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد سے متحدہ عرب امارات نے اپنی فوجی موجودگی کو کم کر دیا لیکن بڑے پیمانے پر یمنی افواج کی حمایت کی ہے۔
17 جنوری کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا جس کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی تھی اس حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے ہوائی اڈے پر ایک زیر تعمیر عمارت کو بھی نشانہ بنایا۔
اتحادی افواج نے جوابی کارروائی کی اور حوثیوں سے منسلک فوجی اہداف کو مزید تیز کر دیا۔ امریکہ اب حوثیوں کے حملوں کے خلاف متحدہ عرب امارات کی مدد کے لیے اپنے جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے بھیجنے پر راضی ہو گیا ہے۔
یمن خطے کا غریب ترین ملک ہے اور اس تنازعے نے شہری آبادی کو متاثر کیا ہے۔ مبینہ طور پر ہوائی حملوں میں ہسپتالوں،ہوائی اڈے، پانی کی سہولیات، اسکولوں اور ٹیلی کام کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
ایک حراستی مرکز پر ہونے والے حالیہ حملے میں 80افراد ہلاک اور انٹرنیٹ کی سہولت بری طرح متاثر ہوئی۔ علاقائی کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بھی سات سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
حوثی متحدہ عرب امارات میں کمپنیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے رہے ہیں جس کے باعث تشدد مزید بڑھتا دکھائی رہا ہے جبکہ دوسری جانب پچاس لاکھ سے زیادہ لوگ قحط کے دہانے پر ہیں اور مزید چالیس لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔ تنازعہ اپنے عروج پرپہنچ چکا ہے اور صورتحال مزید خطرناک ہوتی جارہی ہے جبکہ یہ آگ اور خون سے عبارت جنگ کسی مقام پر ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔