تحریک عدم اعتماد

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)نے بالآخر وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پی پی پی نے یہ تجویز پہلے ہی دی تھی،جس میں کہا تھا کہ ہم تحریک عدم اعتماد لائیں گے مگر اسمبلیوں سے استعفے نہیں دیں گے، جسے مسلم لیگ ن اور دیگر پی ڈی ایم جماعتوں نے مسترد کردیا تھا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا کوئی بھی رکن یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ آیا وہ حکومت جاری رکھنا چاہتا ہے۔ جس کے بعد وہ ایوان میں موجود 20 فیصد ایم این ایز کی مدد سے تحریک عدم اعتماد پیش کر سکتا ہے۔ اس تحریک میں عام انتخابات کرانے کا اختیار ہے اور وہ نئے وزیر اعظم کی تقرری کو دیکھ سکتی ہے۔

تحریک عدم اعتماد ایک بار پیش ہونے کے بعد، سات دنوں کے اندر بل پر بحث ہونی چاہیے۔ اگر تحریک کو کامیاب کرانا ہے تو اسے پاس کرنے کے لیے سادہ اکثریت حاصل کرنا ہوگی۔ اپوزیشن جماعتوں کو تحریک کی منظوری کے لیے کل 172 ووٹ درکار ہوں گے۔ اس کی فی الحال 156 نشستیں ہیں۔

بلاشبہ اپوزیشن اتحاد اس وقت پنجاب یا مرکز میں تحریک عدم اعتماد لانے کے معاملے پر تقسیم کا شکار تھا، تاہم اب مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں نے ناجائز حکمرانوں کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے اور اس سلسلے میں حکومت کے اتحادیوں سے رابطہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

حکومت کو ہٹانے کی اپوزیشن کی کوششیں نتیجہ خیز ہوں یا نہ ہوں، مسلم لیگ (ن) کو حکومت کے دفاع میں کمزوری نظر آ رہی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے کچھ قومی اور صوبائی اراکین اسمبلی جو وزیراعظم سے خوش نہیں ہیں، نے اگلے انتخابات میں مسلم لیگ ن کی حمایت حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ حکومت کے تعلقات گزشتہ چند مہینوں سے کشیدہ رہے ہیں، جس سے اپوزیشن کو قوتوں کی حمایت حاصل کرنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ مزید برآں، اپوزیشن کو لگتا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے گزشتہ ایک سال کے دوران پی ٹی آئی کی عوامی حمایت میں بڑی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

جبکہ دیکھا جائے تو حکومت اپوزیشن کے اس فیصلے پر بے فکر نظر آتی ہے۔ کیونکہ اپوزیشن اب تک کوئی ٹھوس لائحہ عمل پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسے پارلیمنٹ میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اکثریت ہونے کے باوجود بل منظور کر لیے گئے۔ گزشتہ سال وزیراعظم کو معزول کرنے اور اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی ناکامی نے دھچکا لگا دیا۔

شاید یہی وہ وقت ہے جس نے اپوزیشن کو اکٹھا کر دیا ہے۔ اگرچہ اب تک حکومت کو کمزور کرنے کی پچھلی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دینے کے لئے مصروف عمل ہیں۔

Related Posts