بھارتی ریاست کرناٹک کے ایک اسکول کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں طالبات اور اساتذہ کو اسکول میں داخل ہونے سے پہلے حجاب اتارنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔
گزشتہ دنوں سے بھارتی میڈیا اداروں کی جانب سے ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اسکول میں داخل ہونے سے پہلے خاتون استاد اسکول کے دروازے کے باہر عبایا اُتارتی ہیں، پھر اسکول کی عمارت کے اندر داخل ہوتی ہیں۔
واضح رہے کہ بھارتی ہائی کورٹ نے ایک عبوری حکم جاری کیا تھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ تعلیمی ادارے دوبارہ سے کھل سکتے ہیں، لیکن مذہبی لباس پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس دوسری ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک خاتون ٹیچر اسکول کے دروازے پر کھڑے ہوکر مسلم طالبات کو حکم دے رہی ہیں کہ حجاب اُتار کر اسکول میں داخل ہو۔
مزیدازاں ویڈیو میں کچھ والدین کو جگھڑتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے کیونکہ ان کے بچوں کو اسکول میں داخل ہونے سے روکا جارہا ہے جبکہ بحث کے بعد طالبات نے حجاب ہٹا دیا اور صرف چہرے کا ماسک پہنے ہوئے اسکول میں داخل ہوئیں۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت عروج پر پہنچا جب ایک باحجاب نوجوان لڑکی مسکان تنہا ہی انتہا پسندوں کے سامنے کھڑی ہوگئی، کرناٹک میں باحجاب لڑکی مسکان کو ہندو انتہا پسندوں نے کالج جاتے ہوئے ہراساں کیا تھا جس کے جواب میں لڑکی نے ڈرے بغیر نعرہ تکبیر بلند کیا تھا۔