کام کا ہفتہ

تازہ ترین

تازہ ترین

وفاقی حکومت نے دفاتر کے لیے نئے اوقات کار کا اعلان کیا ہے جس میں کام کے اوقات میں کمی اور چھ دن کا کام کا ہفتہ شامل ہے۔ منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کی چھٹی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر سرکاری ملازمین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

حکومت عوام کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکی اور ہفتہ وار ایک چھٹی کے اپنے فیصلے پر قائم ہے، حکومت نے کام کے اوقات کارکم کر کے صرف 7گھنٹے کردیئے ہیں جبکہ جمعہ کے دن پانچ گھنٹے کام ہوگا، عوامی دفاتر اور تمام اہم ادارے جیسے کہ بینک دوپہر 3 بجے بند ہو جائیں گے جس سے خدمات حاصل کرنے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بہت سے ممالک میں کام کے ہفتے کو منظم کیا جاتا ہے، جیسے کم از کم یومیہ آرام کی مدت، سالانہ تعطیلات، اور فی ہفتہ زیادہ سے زیادہ کام کے اوقات۔ کام کا وقت معاشی حالات، مقام، ثقافت، طرز زندگی کے انتخاب اور فرد کی روزی روٹی کے منافع کے لحاظ سے ان کا طریقہ کار مختلف ہو سکتا ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ بیشتر ممالک نے اوسطاً کام کے اوقات میں نمایاں کمی کردی ہے۔ وہاں کام کے اصل وقت میں وقفے یا اوور ٹائم کی وجہ سے عملی طور پر مختلف صورتحال ہوتی ہے۔ زیادہ تر یورپی یونین کے ممالک میں، کام کا وقت بتدریج کم ہو رہا ہے اور بہت سے ممالک چار دن کے کام کے ہفتے کے ساتھ تجربہ کر رہے ہیں۔

کچھ مطالعات کے مطابق کام کے اوقات میں کمی سے کھپت میں اضافہ ہوتا ہے اور ماحولیات پر اثرات کو کم کرتے ہوئے معیشت کو تقویت ملتی ہے۔ جبکہ بعض کا مشورہ ہے کہ یہ صحت، معیشت کو بہتر بناتا ہے، نقل و حمل پر پیسہ بچاتا ہے اور پیداواری صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔

ترقی پذیر ممالک میں، قوانین کو شاذ و نادر ہی نافذ کیا جاتا ہے اور کم تنخواہ والے اوور ٹائم کرکے پیسہ بنالیتے ہیں جو ایک عام عمل ہے۔ بعض ممالک میں کارکن لمبے وقت تک کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے زیادہ کام کرنے سے بہت سی اموات ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر چینیوں کے پاس 996 ورکنگ ہاؤس سسٹم ہے جہاں ملازمین ہفتے میں چھ دن صبح 9AM سے 9PM تک کام کرتے ہیں۔

پاکستان معیاری بین الاقوامی 40 گھنٹے کام کے ہفتہ کی پیروی کرتا ہے۔ وزیراعظم کے اس فیصلے پر یقیناً ملے جلے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہفتے کی چھٹی بحال نہ ہونے کے باعث ملازمین ناراض ہوں گے لیکن ان کے کام کے اوقات کم ہوں گے۔ جب کہ گھنٹوں کی کل تعداد یکساں ہوگی، نقل و حمل اور ایندھن کے اخراجات زیادہ رہیں گے کیونکہ وہ ایک اضافی دن کام کے لئے سفر کریں گے۔ اس طرح حکومت کا یہ فیصلہ کسی حقیقی مقصد کو پورا نہیں کر سکتا بلکہ معاشرے میں مزید انتشار پیدا کر سکتا ہے۔

Related Posts