نئے انتخابات

تازہ ترین

تازہ ترین

نئی مخلوط حکومت بتدریج یہ سمجھ رہی ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کے لیے نئے انتخابات ضروری ہیں۔ نئی حکومت انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات کا اشارہ دے رہی ہے، مگر اپوزیشن کی جانب سے فوری انتخابات کرانے پر زور یا جارہا ہے۔

معزول وزیراعظم عمران خان حکومت کو نئے انتخابات کرانے پر مجبور کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ مطالبہ پورا نہ ہونے پر اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کو دھرنے پر تشویش لاحق ہے کیونکہ عمران خان کو اب بھی زبردست حمایت حاصل ہے اور وہ بڑے بڑے جلسے کررہے ہیں، ان کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے انہیں گھر میں نظربند کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف پارٹی کی سینئر قیادت کے ساتھ نواز شریف سے ملاقات کے لیے لندن روانہ ہو گئے۔ خود ساختہ جلاوطن مسلم لیگ (ن) کے سربراہ، جو اگلے انتخابات سے قبل واپس آسکتے ہیں، نے پارٹی رہنماؤں کو اہم امور پر غور و خوض کے لیے طلب کیا جن پر ورچوئل میٹنگ میں بات نہیں ہو سکی۔ یہ بڑے پیمانے پر قیاس آرائی کی جارہی ہیں کہ وہ یقینی طور پر نئے انتخابات کرانے کے امکان پر بات کریں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اگلے آرمی چیف کی تقرری سے قبل انتخابات ہو سکتے ہیں۔ ایک انٹرویو میں، انہوں نے کہا کہ نومبر کے آخر میں آرمی چیف کی مدت ختم ہونے سے پہلے ایک ”امکان” موجود ہے۔ مسلم لیگ (ن) یقیناً یہ چاہتی ہے کہ اتحادی سیٹ اپ کے بجائے نئی حکومت قائم کرے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو احساس ہے کہ مختلف مفادات والی جماعتوں کا کثیر الجماعتی اتحاد ممکن نہیں۔ پی پی پی جو کہ اتحاد میں دوسری بڑی جماعت ہے، اپنے لیے سب سے زیادہ منافع بخش عہدوں کی تلاش میں ہے۔ اب اس کی نظریں صدارت پر لگی ہوئی ہیں جس سے مسلم لیگ ن کے ساتھ دراڑ بڑھ سکتی ہے۔ سیاسی معاملات پر کسی بھی اختلاف کا مطلب مخلوط حکومت کا خاتمہ ہوگا۔

حکومت جلد بازی میں انتخابی اصلاحات کو منظور کرنے کی کوشش کر سکتی ہے جس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے انتخابات کا انعقاد نہ کرنا اور سمندر پار پاکستانیوں سے ووٹنگ کا حق واپس لینا شامل ہے۔ اسے صرف اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ECP اس سال کے آخر میں نئے انتخابات کرانے کے لیے تیار ہو۔

Related Posts