آج کی دنیا مہذب کہلاتی ہے اور ڈنکے کی چوٹ پر ایسا کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ مادی ترقی، انسان کی تمدنی پیشتاز، ہاتھ بڑھا کر چاند کو پکڑ کر پہلو میں لینے کی لگن اور تسخیرِ کائنات کی ایسی ایسی مہمات میں انسان کی حیران کن پیشرفت کہ جنہیں دیکھ کر شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کا یہ شعر حقیقت ثابتہ بن کر ذہن کی اسکرین پر جھلملانے لگتا ہے ؎
عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہِ کامل نہ بن جائے
یقیناً انسان کی یہ سب محیر العقول مادی اور تمدنی ترقی اس بات کی علامت ہے کہ آج کا انسان چقماق اور پتھر کے دور کے گوشت و پوست کے سیدھے سادے آدمی سے اس حد تک منقلب اور مختلف ہے کہ ٹائم مشین میں جاکر دونوں کو برابر کھڑا کردیا جائے تو ایسا گماں ہونے لگے جیسے دونوں کے وجود میں بھی تفاوت ہو اور دونوں ایک ہی مٹی اور جوہر سے بنے ہی نہ ہوں۔
ماضی اور عہدِ ابتدائی کے انسان سے آج کے آدمی کی شخصیت اور کردار میں یہ واضح اور جوہری قسم کا فرق در اصل تمدنی ارتقا کا کمال ہے۔ انسان کے جوہر میں قدرت نے انفعال اور پل پل بدلنے کی خاصیت رکھی ہے۔ یہ وقت کے ساتھ اپنی جون بدلتا ہے اور کوشش کرتا ہے اپنی پہلی حالت سے مختلف صورت میں سامنے آئے۔
ماہرین عُمرانیات بتاتے ہیں کہ قدرت نے انسان کو مدنی الطبع بنا رکھا ہے، یعنی اس کے جوہر میں یہ بات رکھی ہے کہ یہ وحشت و تنہائی کے بجائے اشتراک (افلاطون کا سوشل ازم) کو پسند کرتا ہے اور فرد سے خاندان، خاندان سے سماج اور سماج سے شہر و ملک بنا، بسا کر رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ طبعیت اور جوہر میں مدنیت کا تقاضا ہی تمدنی ارتقا ہے۔ انسان چقماق سے آج خلائی راکٹ تک آ پہنچا ہے تو یہ اس کی نہاد و سرشت میں قدرت کی طرف سے رکھےمدنیت پسندی کی خو بو کا اثر و کمال ہے اور یہی تمدن ہے۔
اس بحث سے یہ تو ثابت ہوا کہ آج کا انسان متمدن ہے اور ذرا سوچنے سے یہ بھی اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ انسان تمدنی ارتقا کے آج کے ترقی یافتہ اسٹیج کا دلہا کیسے بن گیا ہے؟ مگر متمدن ہونے کے ساتھ آج کا انسان مہذب بھی ہے؟ یہ اہم سوال ہے۔
اس سوال کا جواب لینے سے پہلے ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ تہذیب کیا ہے اور کسے کہتے ہیں؟ اصطلاحی اور عرفی تعریفوں کی طرف جائے بغیر آسان لفظوں میں جاننے کیلئے ہمیں تہذیب اور تمدن کے سادہ فرق کو سمجھنا ہوگا۔ عام فہم زبان میں تمدن کہتے ہیں ظاہر اور نظر آنے والی ترقی اور سجاوٹ کو، جبکہ اس تناظر میں تہذیب کا اطلاق اس کے بر عکس باطنی اور معنوی خوبیوں پر ہوگا۔
اس فرق کو تعلیم اور تربیت کے درمیان تفاوت سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر تعلیم انسانی فہم اورشعور میں اضافہ کرتی ہے، تعلیم سے انسان میں اس قدر جانکاری آتی ہے کہ وہ یہ سمجھ سکتا ہے اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے۔ نیز یہ کہ برائی کسے کہتے ہیں اور اچھائی کے کیا معنی ہیں اور دونوں کے دائرے کیا ہیں؟ کونسا کام کس دائرے میں آکر اچھائی کہلائے گا اور کونسا امر ایک خاص دائرے میں آئے گا تو اسے برائی سے تعبیر کیا جائے گا۔ یہ فرق سمجھانا اور بتانا تعلیم کا وظیفہ عمل ہے، جبکہ تربیت اس سے آگے کی چیز ہے۔ گویا جہاں تعلیم کی حد تمام ہوتی ہے، اس سے آگے تربیت کی سرحد شروع ہوتی ہے۔ تعلیم نے جو معلومات انسان کو فراہم کیں، انہیں عمل کا جامہ پہنانا تربیت کا کام ہے۔
گویا تعلیم و تربیت بھی تمدن اور تہذیب کی طرح ظاہر و باطن کا فرق رکھتی ہیں۔ تمدن میں ارتقا اور ترقی کی منازل طے کرکے انسان آج اپنی وجودی زندگی کے اوج کمال کو جا پہنچا ہے، مگر کیا تہذیب میں بھی وہ کمال کی اس حد کو پہنچ پایا ہے، جہاں آج اس کے تمدن کی چکا چوند سے مہ و انجم بھی سہمے سہمے نظر آ رہے ہیں؟ ہم تہذیب کے سوال کی عینک سے بنی نوع انسان کی حیات اجتماعی کا جائزہ لیتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے تمدنی ترقی میں انسان کمال کی جن انتہاؤں کو چھو رہا ہے، تہذیب و کردار میں بد قسمتی سے اس کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچا۔
تہذیب کے ایک معنی زندگی گزارنے کا طور طریقہ ہے۔ اس کا بھی ایک ظاہر ہے اور ایک باطن۔ اگر civilizationکو ظاہری حالت کی نگاہ سے دیکھیں تو کل اگر انسان ننگ دھڑنگ تھا تو آج سوٹ بوٹ اور عمدہ سے عمدہ پوشاک میں ہے، ماضی کی حالت غیر مہذب تھی، تو آج کی حالت تہذیب کا آئینہ دار ہے، مگر تہذیب کے باطن کی نظر سے دیکھیں تو آج کے بظاہر مہذب، سوِلائزڈ اور متمدن نظر آنے والے انسان اور ماضی کے غیر مہذب انسان میں کوئی بڑا فرق نظر نہیں آئے گا۔
کیا آج دنیا سے جنگیں ختم ہو چکی ہیں؟ کیا آج کے انسانوں نے ماضی کے غیر مہذب انسانوں اور وحشی جانوروں کی طرح ایک دوسرے کا شکار کرنا بند کر دیا ہے؟ کیا انسانوں کی مار کاٹ بند ہو گئی ہے؟ کیا انسانوں کو غلام بنا کر ان کے گلے میں اپنے حکم کا طوق ڈالنے کا عمل ماضی کی طرح آج بھی موجود ہے یا اب انسان واقعی مہذب ہو گیا ہے اور اس نے دوسروں کے پاؤں میں غلامی کی بیڑیاں ڈالنا روک دیا ہے؟
آپ چونک رہے ہوں گے کہ اب ماضی کی طرح انسانوں کو کون غلام بناتا ہے؟ جی ہاں، انسان آج بھی تہذیب کے دعوؤں کے باوجود ماضی کے غیر مہذب انسان کی طرح دوسروں کو غلام بناتا ہے اور غلام بنانے کا عمل اس نے آج بھی نہیں روکا ہے۔ بس ذرا طریق واردات بدل گیا ہے۔ پہلے فرد کو غلام بنایا جاتا تھا، اب پوری پوری قوموں کو غلام بنایا جاتا ہے۔ کیا یہ آئی ایم ایف، عالمی بینک، عالمی طاقتیں جیسے عناصر طاقت اور دولت کے بل بوتے پر وہی کارنامے انجام نہیں دے رہے، جو ماضی کے غیر مہذب انسان کا شیوہ، وتیرہ اور طرز عمل تھا؟ پھر کیسی تہذیب، کہاں کی تہذیب۔
کل کا انسان اگر پتھر، تیر، بھالے اور تلوار سے اپنے ہم جنس کا شکار کرکے غیر مہذب تھا، تو آج خطرناک میزائل، ڈرون ٹیکنالوجی اور ایٹم بم تک لمحوں میں ہزاروں لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کا چراغ بجھانے والے خطرناک روایتی اور غیر روایتی اسلحہ کا ڈھیر لگانے والے کیسے مہذب ہو سکتےہیں؟ تیر تلوار سے سینکڑوں ہزاروں مارنے والے غیر مہذب ہو گئے تو دو عالمگیر جنگوں میں کروڑوں اپنے جیسے انسانوں کا لہو بہانے والے کیا کہلائیں گے؟ ایک ایک فرد کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے والا ماضی کا انسان تو جی غیر مہذب تھا، مگر پوری پوری قوم اور ممالک کو غلام بنانے والے مہذب ہیں؟ ہرگز نہیں۔
حاصل یہ کہ تہذیب کے دعوے سب غلط، انسان آج ایک ترقی یافتہ اور متمدن حیوان ضرور بن چکا ہے، مگر تہذیب کا زینہ اب تک اس سے کوسوں دور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کا انسان جدید غیر مہذب ہے!