توانائی کا بحران اور پاکستان

تازہ ترین

تازہ ترین

گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان مسلسل بجلی کے شدید بحران کا شکار ہے جبکہ مختلف شہروں اور دیہی علاقوں کو مسلسل لوڈ شیڈنگ جیسے سنگین مسئلے کا سامنا ہے۔

لوڈ شیڈنگ نے عوام الناس کی زندگیوں اور صنعتی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے توانائی کے تحفظ کیلئے ہنگامی منصوبے کا اعلان تو کیا لیکن تاحال صورتحال میں خاطرخواہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔

اتحادی حکومت نے ملک بھر کی مارکیٹس رات 9 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا تاہم اس فیصلے کے بھی اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے کیونکہ ملک کے مِختلف حصوں میں لوڈ شیڈنگ 12 سے 14 گھنٹے جبکہ بجلی کا شارٹ فال 5سے6ہزار میگا واٹ ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گرمی بڑھے گی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل اور کوئلے کی عالمی مارکیٹ مں بڑھتی قیمتوں کو بنیاد بنا کر آئندہ ماہ بھی بجلی کی بندش میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

آئندہ ماہ کیلئے اتحادی حکومت قدرتی گیس فراہمی کا معاہدہ کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ جولائی کے ٹینڈرز اونچی قیمت پر ہی ختم کردئیے گئے۔ پاکستان ایل این جی لمیٹیڈ نے ایل این جی کی جولائی کی ترسیل کیلئے خریداری کا ٹینڈر ایک پیشکش موصول ہوے کے بعد ختم کردیا اور یہ اب تک کی سب سے مہنگی کھیپ ہوگی۔

دوسری جانب انتہائی گرم موسم کے پیشِ نظر بجلی کی طویل بندش نے ملک کے کئی شہروں بالخصوص کراچی میں عوام کو سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور کردیا۔ کے الیکٹرک نے شہرِ قائد میں لوڈ شیڈنگ کو ڈراؤنا خواب بنا دیا ہے۔ بھاری بل بھیجنے کے باوجود کراچی کو بجلی فراہم کرنا کے الیکٹرک کی ترجیحات میں شامل نہیں۔

جب بھی کے الیکٹرک سے لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر رابطہ کیا جاتا ہے تو کمپنی کے لوگ تکنیکی خرابی کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ تکنیکی خرابی درجۂ حرارت بڑھنے کے ساتھ ہی کیوں پیدا ہوتی ہے؟ دراصل کے الیکٹرک تانبے کی بجائے اسٹیل کی تاریں استعمال کرتی ہے جو دھوپ کے باعث نہ صرف گرم ہوتی ہیں ہیں بلکہ ٹوٹ بھی جایا کرتی ہیں۔

متعدد مواقع پر کراچی کے شہریوں نے کے الیکٹرک کے اہلکاروں پر تانبا چرانے کا الزام بھی عائد کیا۔ تاہم لوڈ شیڈنگ کراچی کیلئے کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ مجھے بچپن سے ہی بجلی کی آمدورفت پر دکھ اور خوشی محسوس ہوتی رہی ہے۔

لطف کی بات یہ ہے کہ اب میرے بال یہی ایک مسئلہ دیکھتے دیکھتے سفید ہوچکے ہیں، تاہم حکومت اور کے الیکٹرک کے انداز جوں کے توں ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لائن لاسز کم کیے جائیں، افسران اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ملازمین کو بجلی کے مفت یونٹس کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے کیونکہ بجلی کی بندش پر قابو پانے کا یہی واحد راستہ نظر آتا ہے۔ 

Related Posts