چین سے دنیا بھر میں پھیلنے والی کورونا کی عالمی وباء نے دنیا کے کم و بیش ہر ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے کئی ممالک نے کیسز کی روزانہ رپورٹنگ بند کردی۔
پاکستان بھی ایسے ہی ممالک میں شامل ہونے والا تھا جب این سی او سی کو بند کرکے کورونا کیسز کے اعدادوشمار عوام تک پہنچانے کا انتظام قومی ادارۂ صحت (نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ) کو تھما دیا گیا اور کورونا کی آفیشل ویب سائٹ بھی روزانہ کی اپ ڈیٹ میں تساہل سے کام لینے لگی۔
کچھ ممالک نے صرف ہسپتال میں داخل ہونے والے کورونا کے مریضوں پر توجہ مرکوز کردی اور بدقسمتی سے اس تمام تر لاپرواہی کا نتیجہ یہ نکلا کہ کورونا دنیا پر نیا وار کرنے کیلئے واپس آگیا۔ امریکا، برطانیہ، متحدہ عرب امارات، بھارت اور پاکستان سمیت دیگر ممالک پھر متاثر ہونے لگے۔
متعدد ممالک میں کورونا کیسز کے ساتھ ساتھ اموات بھی ریکارڈ کی جارہی ہیں۔ کورونا کی نئی اقسام، مثلاً اومی کرون کے ویرئینٹ بی اے 4 اور بی اے 5 چند ماہ قبل کورونا کیسز میں اضافے کے ذمہ دار ثابت ہوئے جبکہ کورونا کی ذیلی اقسام کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔
دنیا بھر میں کورونا کی گزشتہ لہروں کے مقابلے میں موجودہ لہر زیادہ طاقتور دکھائی نہیں دیتی تاہم اس کی وجہ دنیا بھر میں کورونا کی ٹیسٹنگ کم ہونا بھی ہے۔ پاکستان میں یومیہ 40 سے 50 ہزار ٹیسٹنگ کی شرح اب 10 سے 15ہزار روزانہ پر آگئی ہے۔ عوام نے بھی کورونا پر توجہ دینا چھوڑ دی۔
دراصل پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک یہ سمجھ رہے تھے کہ کورونا آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گا، تاہم ایسا نہیں ہوا۔ گزشتہ 3 روز کے دوران پاکستان میں کورونا کے سیکڑوں نئے کیسز اور کم و بیش 6اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ این سی او سی روزمرہ کی صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔
حکومت نے ہوائی اڈوں پر ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے۔ کورونا ویکسینیشن لازمی قرار دی جارہی ہے تاہم صرف ویکسینیشن ہی کورونا کا حل نہیں کیونکہ ویکسین 100فیصد مؤثر قرار نہیں دی جاسکتی۔ ایک اہم مقولہ ہے کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے اور کورونا سے بچاؤ کیلئے احتیاط ہی ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسین کی 2 خوراکیں لینا کافی نہیں بلکہ عوام کو بوسٹر شاٹس بھی لینے ہونگے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کورونا کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات اٹھائے تاکہ عوام وائرس سے محفوظ رہ کر اپنے معمولاتِ زندگی کے فرائض انجام دے سکیں۔