اسٹیٹ بینک سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ مئی 2022 میں ملک کا تجارتی خسارہ 1 اعشاریہ 245 ارب ڈالر پر یعنی 4 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ مئی 2021 کے 64 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں موجودہ ملکی خسارہ 2.2 گنا جبکہ اپریل 2022 کے 61 کروڑ 80 لاکھ کے مقابلے میں 2.3 گنا زیادہ ہے۔ اس مستقل دائروی رجحان سے پتہ چلتا ہے کہ ملکی معیشت گزشتہ برس سے کن مشکلات کا شکار ہے۔
گرتے ہوئے ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر میں شدید کمی بھی معاشی دباؤ کی بڑی وجہ قرار دی جاسکتی ہے۔ اس سے ملک کے درآمدی بل میں بھی مزید اضافہ ہوا جبکہ برآمدات کم ہوتی نظر آرہی ہیں۔
غور کیا جائے تو بڑھتا ہوا درآمدی بل ہی ملک کے تجارتی خسارے کی سب سے بڑی وجہ ہے کیونکہ حکومت کو توانائی کی بڑھتی ہوئی گھریلو طلب پوری کرنے کیلئے عالمی مارکیٹ سے 4مہنگے ایل این جی کارگوز خریدنے پڑے۔
تاہم بگڑتا ہوا یہ تجارتی خسارہ صرف پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نہیں ہے کیونکہ رواں مالی سال کے 11 ماہ کے دوران درآمدی بل کاحجم 75 اعشاریہ 74 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اتحادی حکومت نے حال ہی میں اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے لگژری آئٹمز کی درآمدات بند کرنے کا اعلان کیا تاہم محسوس ایسا ہوتا ہے کہ اس اعلان کے نتائج نہ ہونے کے برابر رہے ہیں۔
معاشی بحران سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرے اور روپے کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے۔ زرِ مبادلہ کے گرتے ذخائر کو سہارا دینے کیلئے چین سے 2.3ارب ڈالر کی امداد پہلے ہی حاصل کر لی گئی ہے تاہم میڈیا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ شرحِ سود میں اضافے کے بعد چینی پہلے کے مقابلے میں مہنگی ہوگئی ہے۔
آئی ایم ایف ڈیل کی جلد بحالی سے بھی بیرونِ ملک سے قرض کی بحالی میں مدد ملے گی۔ حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ میں کمی پاکستان جیسی معیشتوں کیلئے نیک شگون سمجھا جاسکتا ہے جس سے درآمدات کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ملکی معیشت کو استحکام فراہم کرنے اور مقامی و پائیدار ترقی کے حصول کیلئے اقدامات اٹھائے جس سے ملک کے معاشی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔