پاکستان تزویراتی اعتبار سے ایشیا کا سب سے بڑا تجارتی، توانائی اور ٹرانسپورٹ کوریڈور بننے کیلئے تیار ہے۔ یہ توانائی سے مالا مال وسطی ایشیائی ریاستوں، خلیتی ممالک اور اقتصادی طور پر ترقی یافتہ مشرقِ بعید کا گیٹ وے بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔
مملکتِ خداداد پاکستان کی اسٹرٹیجک لوکیشن ہی پاکستان کو امکانات سے بھرپور مارکیٹ کا درجہ دیتی ہے۔ ہماری آبادی کا 55 فیصد حصہ 19 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے جو طویل مدتی پائیدار اقتصادی ترقی کیلئے اچھا اشارہ ہے۔
یہاں مڈل کلاس مضبوط ہے اور افرادی قوت کا بڑا حصہ انگریزی زبان پر مہارت رکھنے والا، محنتی اور ذہین ہے۔ پاکستان کے پاس تربیت یافتہ اور تجربہ کار انجینئرز، بینکرز، وکلاء اور دیگر پیشہ ور افراد کا ایک بڑا مجموعہ ہے۔ بہت سے لوگ وسیع بین الاقوامی تجربہ رکھتے ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان بھارت اور سری لنکا کے قریب ہونے کے باوجود الگ ثقافت اور حالات کے اعتبار سے منفرد ملک قرار دیاجاتا ہے۔ 2050 تک پاکستان کینیڈا اور اٹلی جیسی بڑی معیشتوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی 16ویں بڑی معیشت بن سکتا ہے جس کی پیشگوئی کردی گئی ہے۔
ملک کی تعریف کرنے والے دیگر عوامل میں نوجوان آبادی اور بڑھتی ہوئی مڈل کلاس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انگریزی کاروباری برادری کی زبان کہلاتی ہے جس کا انتہائی ترقی یافتہ شعبہ جی ڈی پی کا 56 فیصد حصہ تشکیل دیتا ہے۔ پاکستانی درحقیقت ایشیا میں سب سے زیادہ خریداری کرنے والے لوگ ہیں۔ اس لیے پاکستان میں غیر ملکی کاروبار کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔
مالی اعتبار سے پاکستان میں پیداوار اور مزدوری کی لاگت کم آتی ہے۔ اس لیے یہ سرماہی کاروں کیلئے اردگرد کے مقابلے میں زیادہ منافع بخش ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو پاکستان کے معاشی نقطہ نظر کو آگے بڑھانے کیلئے جرأت مندانہ اقدام کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
بہترین سرمایہ کاری تک مختلف لوگ اپنے تاثرات سے وابستہ ہو کر کئی طرح سے رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں مختلف شعبہ جات میں سرمایہ کاری کے کئی بہترین مواقع ہیں لیکن رئیل اسٹیٹ کی سرمایہ کاری سب سے بہتر سمجھی جارہی ہے۔ ملکی معیشت مختلف عوامل سے متاثر ہوتی ہے جس کے باعث کچھ کاروبار پھلتے پھولتے اور کچھ نقصان اٹھاتے ہیں۔ حکومتی وسائل کا انتظام اور پالیسیوں جیسے عوامل کاروباری طبقے کو متاثر کرنے والے اہم عوامل ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر سرمایہ کاری کے ایسے مواقع موجود ہیں جن سے تیزی سے منافع حاصل کرنے کیلئے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں بہترین سرمایہ کاری کے عوامل مندرجہ ذیل نکات سے سمجھے جاسکتے ہیں:
پہلا نکتہ یہ ہے کہ پاکستان دنیا کا 5واں سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک ہے جس میں 22 کروڑ شہری، 6 کروڑ سے زائد مضبوط لیبر فورس اور بڑھتے ہوئے متوسط طبقات ہیں۔ کل آبادی میں سے 36 اعشاریہ 38 فیصد لوگ شہری علاقوں کے باسی ہیں جبکہ 63 اعشاریہ 62 فیصد دیہی علاقوں میں بستے ہیں۔ آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح 2.4فیصدسالانہ ہونے کی وجہ سے مکانات کی طلب میں اضافہ جاری ہے۔ یہ شعبہ ملکی لیبر فورس کا 7.61 فیصد حصہ حاصل کرتا ہے۔ سی پیک نے ہائی ویز، پاور پلانٹس اور ڈیموں سمیت بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی آمد کے ذریعے تعمیراتی شعبے کو فروغ دیا ہے۔ پاکستان کا تعمیراتی شعبہ جی ڈی پی میں 380 ارب روپے تک فراہم کرتا ہے۔ پاکستان بے شمار سیاحتی مقامات سے مالا مال ہے جو مختلف قسم کے سیاحوں کیلئے متنوع انتخاب کی پیشکش کرتا ہے۔ یہ ملک دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کا گھر قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس میں قدرتی خوبصورتی کے بے شمار مقامات، دنیا کے بلند ترین پہاڑ، بہت سے مذہبی و تاریخی مقامات، منفرد فنون و دستکاری، ایک بھرپور ثقافت اور ورثہ ہے۔
برٹش بیک پیکر سوسائٹی نے پاکستان کو دنیا کے بہترین مہم جویانہ (ایڈونچرس) سیاحتی مقام کے طور پر درجہ دیتے ہوئے اس ملک کو زمین پر سب سے دوستانہ ممالک میں سے ایک قرار دیا جس کے پہاڑی مناظر تصور سے بڑھ کر دلفریب ہیں۔ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کے متعدد مقامات پاکستان میں موجود ہیں مثلاً موہنجو داڑو میں آثار قدیمہ کے کھنڈرات، تخت بہلول کے بدھ کھنڈرات، لاہور کا تاریخی قلعہ اور شالیمار باغات، مکلی میں تاریخی یادگارِ ٹھٹھہ، روہتاس قلعہ اور ٹیکسلا وغیرہ۔ پاکستان میں 7,000 میٹر سے اوپر کی 108 اور غالباً 6,000 میٹر سے زائد کی بے شمار چوٹیاں ہیں۔ 5,000 اور 4,000 میٹر سے اوپر کی چوٹیاں بھی لاتعداد ہیں۔ دنیا کی 14 بلند ترین آزاد چوٹیوں میں سے پانچ (آٹھ ہزار فٹ بلند) پاکستان میں ہیں جن میں سے چار بالٹورو گلیشیئر اور گاڈون آسٹن گلیشیئر کے سنگم یعنی کنکورڈیا کے گردونواح میں واقع ہیں۔
وفاقی حکومت مذہبی سیاحت کو فعال طور پر فروغ دے رہی ہے، کیونکہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ آمدنی پیدا کرنے والے کاروباروں میں سے ایک ہے، مثلاً کرتار پر راہداری۔ حکومت بابا نانک کے جنم دن کی تقریبات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔ ماضی میں سکھ یاتریوں کو صرف 3000ویزے جاری کیے گئے تھے۔ اس اقدام نے دنیا بھر میں سکھ برادری کی توجہ بھی مبذول کرائی ہے۔
ایک حالیہ سروے کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت سے باہر رہنے والے 80 لاکھ سکھوں میں سے 83 فیصد نے جبکہ 2 کروڑ بھارتی سکھوں میں سے 79٪ نے پاکستان آنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ خیبر پختونخوا بدھ مت کے مقدس مقامات سے بھرپور ہے، حکومت عالمی بینک کے ساتھ مل کر بدھ مت کے پیروکاروں اور خاص طور پر دنیا بھر سے آنے والے بھکشوؤں کو راغب کرنے کے لیے بدھ مت کے پیروکاروں کو بھی پاکستان کی طرف متوجہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
ساری دُنیا اِس وقت چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے ڈیجیٹل ہے۔ 2016 کی ڈیجیٹل اکانومی کا اصل حجم عالمی سطح پر 11.5 ٹریلین ڈالر تھا جو کہ عالمی جی ڈی پی کا 15.5 فیصد بنتا ہے۔ بنیادی ڈیجیٹل اثاثے ایک تہائی یا 3.8 ٹریلین ڈالر پر مشتمل ہیں جبکہ ڈیجیٹل اسپل اوور اثرات بقیہ دو تہائی یعنی 7.5 ٹریلین ڈالر پر مشتمل ہیں۔
ہمارے ملک کی 20 کروڑ آبادی کا تقریباً 60 فیصد حصہ 15 سے 29 سال کی عمر رکھتا ہے جو ایک بہت بڑا انسانی اور علمی سرمایہ ہے۔ پاکستان میں 2000 سے زیادہ آئی ٹی کمپنیاں اور کال سینٹرز ہیں اور ان کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں تین لاکھ سے زیادہ انگریزی بولنے والے آئی ٹی پروفیشنلز ہیں جو موجودہ اور ابھرتی ہوئی آئی ٹی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز میں مہارت رکھتے ہیں۔ 13 سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس، 20 ہزار سے زیادہ آئی ٹی گریجویٹ اور انجینئرز ہر سال ایک بڑھتے ہوئے اسٹارٹ اپ کلچر کے ساتھ تیار کیے جا رہے ہیں۔
بڑھتے ہوئے متوسط طبقے کے ساتھ پاکستان دنیا کی چھٹی بڑی آبادی کا وطن ہے۔ یہاں تقریباً 1 کروڑ 70 لاکھ متوسط طبقے کے گھرانے اور 10 کروڑ 20 لاکھ متوسط طبقے کے افراد ہیں۔ فوڈ اینڈ بیوریج پروسیسنگ انڈسٹری ٹیکسٹائل کے بعد پاکستان کی دوسری سب سے بڑی صنعت ہے جو کہ ویلیو ایڈڈ پیداوار کا 27 فیصد اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں 16 فیصد روزگار فراہم کرتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ پاکستان گنجان آباد ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے جو 2.4 فیصد سالانہ کی بلند شرح سے ترقی کر رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ کا شعبہ ملکی ترقی میں کردار ادا کررہا ہے جو خدمات کے شعبے کی جی ڈی پی کا 3 فیصد اور ملک کی کل ملازمت کا تقریباً 6 فیصد ہے۔ بین الاقوامی ٹرانسپورٹ پاکستان کو اس کی سرحدی گزرگاہوں، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے ذریعے اس کے پڑوسی ممالک اور مزید بیرون ملک سے جوڑ رہی ہے۔ پاکستان کی معیشت ان بین الاقوامی رابطوں پر انحصار کرتی ہے، جس میں خلیجی ریاستوں میں ایک بڑی پاکستانی افرادی قوت بھی شامل ہے جو ملک کے اندر اور باہر آمدورفت کا سلسلہ جاری رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ وسط ایشیائی خطے کے ساتھ تجارت بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
ایشیا میں ٹیکسٹائل مصنوعات کا آٹھواں بڑا برآمد کنندہ پاکستان ہے۔ یہ کپاس کا چوتھا سب سے بڑا پیدا کار اور تیسرا سب سے بڑا صارف ہے۔ یہ کل مینوفیکچرنگ سیکٹر کے 46 فیصد پر مشتمل ہے اور کل لیبر فورس کے 40 فیصد کوروزگار فراہم کرتا ہے۔ ٹیکسٹائل کی کل کمپنیوں کا 5 فیصد اسٹاک ایکسچینج میں درج ہے۔ ملک میں ٹیکسٹائل کی 423 صنعتیں کام کر رہی ہیں۔ پاکستان میں تقریباً تمام انسانی ساختہ اور قدرتی یارن اور کپڑوں کی سپلائی کا کام جاری ہے جس میں مختلف قسم کا کپڑا شامل ہے۔ خام مال کی یہ کثرتِ لاگت اور آپریشنل لیڈ ٹائم پر فائدہ مند اثرات کی وجہ سے ملک کو اس کا بڑا فائدہ ہوتا ہے۔
اگرچہ مذکورہ بالا پالیسی اقدامات اور اصلاحات جو اس وقت لاگو ہو رہی ہیں وہ درست سمت میں اٹھائے گئے اقدامات ہیں، لیکن اب بھی کچھ ایسے شعبے موجود ہیں جن پر اگر توجہ مرکوز کی جائے تو ملک میں سرمایہ کاری کے مجموعی ماحول کو بہتر بنانے کے حوالے سے مذکورہ بالا کوششوں کی تکمیل ہو جائے گی مثلاً مربوط اور مستقل پالیسی فریم ورک ضروری ہے. اعلان کردہ انسانی سرمائے کی پالیسیوں پر باہمی تعاون سے عملدرآمد ہونا چاہیے، ان کے کامیاب نفاذ کے لیے ٹیکس اقدامات کا واضح رابطہ بہت ضروری ہے۔ زیادہ ترقی کی صلاحیت رکھنے والی کمپنیوں کی شناخت اور حوصلہ افزائی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ آخر میں معیشت کے اہم حصوں میں سرمایہ کاری کی قیادت کرنے کے لیے ریاست کے کردار کو بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔