این سی او سی دوبارہ بحال

تازہ ترین

تازہ ترین

ملک میں کورونا کے کیسز میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے، قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں اِس وقت کورونا کے کیسز کی مجموعی تعداد 500 سے اوپر ہے، ہفتہ کے روز مثبت کیسز کی شرح 4 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

رواں سال مارچ کے مہینے میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اعلان کیا تھا کہ این سی او سی کو مہینے کے آخر تک بند کردینگے کیونکہ ملک میں کورونا کی صورتحال کافی بہتر ہوگئی ہے۔

بدقسمتی کے ساتھ ملک میں کورونا کے کیسز میں دوبارہ سے اضافہ ہورہا ہے، موجودہ وفاقی حکومت نے بدھ کے روز کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر این سی او سی کو دوبارہ سے فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیسز میں دوبارہ سے اضافے کے بعد قومی ادارہ صحت دوبارہ سے ایس اوپیز پر عمل درآمد کروانے کیلئے کام کررہا ہے اور ٹیسٹ کی تعداد میں اضافہ کرنے کیلئے بھی کام کررہا ہے۔

ایسا بتایا جارہا ہے کہ اگلے ایک یا دوماہ میں 5 سے 12 سال کی عمر کے بچوں کو ویکسین لگانی شروع کردی جائے گی اور بوسٹر شاٹس کا بھی دوبارہ سے آغاز کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ عالمی وبا پر قابو پانے کیلئے این سی او سی کو فعال کرنا بہت زیادہ ضروری تھا، خاص طور پر ایسے شہروں میں جہاں پر کورونا کے کیسز زیادہ رپورٹ ہورہے ہیں، جیسے کراچی اور حیدرآباد میں، اسی حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خبردار بھی کیا ہے کہ اگر لوگ ایس اوپیز کو نظرانداز کرتے رہے اور کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا تو سخت پابندیاں لگانی پڑجائیں گی۔

این سی او سی کی بندش سے کورونا وائرس کے تمام معاملات کا بوجھ قومی ادارہ صحت پر پڑگیا تھا، جس کے بعد حکومت کو یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ دوبارہ سے این سی او سی کو فعال کرے کیونکہ اُس نے کورونا پر قابو پانے کیلئے مناسب اقدامات کیے تھے۔

قومی ادارہ صحت نے کورونا پر قابو پانے کیلئے کوئی خاطر خواہ کارگردگی نہیں دکھائی، علاوہ ازیں اُسے انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، وبائی امراض کے تقصانات کو کم کرنے کیلئے این سی او سی کے قیام کیلئے ہمیں اہم وسائل اور کام کرنے کی ضرورت پڑے گی جہاں ملک میں کورونا کے بڑھتے کیسز پر قابو پاسکیں گے۔

Related Posts