فلم دیکھتے ہوئے اکثراوقات ایسا ہوتا ہے کہ اچانک سے مرکزی کردار کو سازش کے تحت قتل کردیا جاتا ہے چونکہ وہ فلم کا اہم کردار ہوتا ہے اسی لئے اُس کردار کی موت کا ہمیں دکھ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اگر ہم حقیقی زندگی کی بات کریں تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بھی کچھ ایسی پراسرار اموات ہوئی ہیں جن پر تاریخ بھی حیران رہ جاتی ہے۔
ماضی میں پاکستان کے چند سیاسی رہنماؤں کو ایسے فلمی انداز میں قتل کیا گیا ہے کہ ذہن چند لمحوں کیلئے دنگ رہ جاتا ہے، یہ تمام پاکستان کی بڑی شخصیات تھیں جن کی موت کے معمے کو آج تک حل نہیں کیا جاسکا یا شاید اعلیٰ قوتیں انھیں حل ہی نہیں کرنا چاہتی ہیں۔
سب سے پہلے آغاز کرتے ہیں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح سے جن کو سب بانئ پاکستان کے لقب سے مخاطب کرتے ہیں، اُن کا انتقال کسی ڈرامائی کہانی سے کم نہیں، ذرا سوچیں کہ اُن کی بیماری کے بارے میں جاننے کے باوجود بھی انھیں 11 ستمبر کے دن ایئرپورٹ پر ریسیو کرنے کیلئے ایک کھٹارا ایمبولنس بھیجی گئی جو کہ راستے میں ہی خراب ہوگئی. جس کے بعد دوسری ایمبولنس چارگھنٹے کے طویل انتظار کے بعد بھیجی گئی۔
افسوس کہ ٹی بی جیسی بیماری میں مبتلا قوم کا عظیم ہیرو کئی گھنٹوں تک بے یارومددگار سڑک پر طبی امداد کا منتظر رہا لیکن کوئی اُس کی مدد کو نہیں پہنچا۔
اسی طرح قائداعظم کے انتقال کے چند سال بعد وزیر اعظم لیاقت علی خان کا پہلے سے بنائے گئے منصوبے کے تحت قتل ہونا کسی خوفناک حادثے سے کم نہیں تھا جسے فلمایا گیا ہو۔ انہی کا گارڈ آتا ہے، قتل کرتا ہے اور اسی وقت اس گارڈ کو بھی گولی مارکر قتل کردیا جاتا ہے۔ اُس کے بعد اُن کے قتل کی تفتیش کرنے والے افسر اعتزازالدین کے طیارے کا تباہ ہونا اور آہستہ آہستہ کرکے قتل سے متعلق ہر چیز حتیٰ کہ فائل تک کا گم ہوجانا سمجھ سے بالاتر ثابت ہوا۔
ذہن دنگ رہ جاتا ہے کہ یہ حقیقی زندگی ہے یا ہالی ووڈ کی کسی فلم کا سین لیکن نہیں یہ ایک ایسے ملک ہوا تھا جو آج تک ترقی پذیر ہے اور جس وقت یہ واقعہ ہوا تھا اُس وقت پاکستان کو بنے ہوئے صرف چند سال ہی ہوئے تھے۔
پاکستان کی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب محترمہ فاطمہ جناح کی موت کس طرح اُن کو بولنے سے روکا گیا اُن کو ریڈیو پر خطاب کرنے کی اجازت نہ دی گئی حتیٰ کہ اُن کی کتاب مائی برادر کو بھی سنسر کیا گیا اور جب وہ الیکشن میں کھڑی ہوئیں تو زبردستی اُن کو شکست سے دوچار کیا گیا، پھر اُس کے بعد اچانک سے اُن کی طبعی موت کا ہوجانا جبکہ ایسے حقائق بھی سامنے آئے تھے کہ محترمہ فاطمہ جناح کی گردن اور پیٹ پر زخموں کے نشان پائے گئے تھے، جس حوالے سے آج تک کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں۔
وقت گزرتا گیا اور پھر ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا، یہ پاکستان کی تاریخ کا واحد کیس تھا کہ جس میں ہائی کورٹ ایک ٹرائل کورٹ بن گیا تھا۔ اس حوالے سے ممتاز قانون دان حامد خان اپنی کتابA history of judiciary in Pakistan میں لکھتے ہیں بھٹو کی سزا میں عدلیہ پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کا فیصلہ کروایا گیا تھا، جس کے بعد اگر اس فیصلے کی تحقیق کروانے کی کوشش کی بھی گئی تو وہ کوشش آج تک کامیاب نہیں ہوسکی۔
پاکستان کی تاریخ کی پراسرار اموات کا سلسلہ یہی پر نہیں رکا بلکہ ایک اور سیاستدان کی موت ہوئی، ذوالفقار علی بھٹو کی ہی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کو سر عام راولپنڈی میں قتل کیا گیا۔ جس کی تفتیش آج تک نہیں ہوئی یا پھر ایسا لگتا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اس معاملے کو باقاعدہ دبایا گیا ہے۔
اختتام اس بات سے کرتے ہیں کہ ایسے اَن گنت واقعات ہیں جو گنوائے جاسکتے ہیں مگر یہ تحقیقات اور مجرموں کے منطقی انجام سے محروم پانچ ایسے اہم واقعات ہیں جنہوں نے پاکستان کی تاریخ تبدیل کردی۔ کچھ کردار نمایاں ہیں مگر یہ پورا منظر نامہ کہیں بھی نہیں، ہدایتکار اور بڑے اداکار دھند کی اوٹ میں پوشیدہ ہیں۔
کیا ایسا نہیں لگتا کہ حکومتوں سے اوپر بھی کوئی نادیدہ قوت اپنے وجود کا احساس دلاتی ہے۔ جو چاہیں پکاریں خفیہ ہاتھ یا تیسری قوت، حقیقت تو یہ ہے کہ حکومتیں آتی جاتی رہیں۔ مگر یہ نادیدہ قوت پاکستان بننے سے اب تک موجود اور مختلف سازشوں میں مصروف ہے۔