پاکستان میں صحافیوں پر حملے اور دباؤ یہاں کے عوام کیلئے کوئی نئی بات نہیں رہی، یہ صورتحال عرصہ دراز سے دیکھنے میں آرہی ہے۔ حال ہی میں سینئر صحافی ایاز امیر کو لاہور میں نامعلوم افراد نے اس وقت زدوکوب کیا جب وہ ایک نجی ٹی وی کے دفتر سے باہر نکلے۔ حملے کے باعث عام شہریوں، بالخصوص صحافی برادری میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
معروف صحافی ایاز امیر نے گزشتہ ہفتے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور ان لوگوں پر تنقید کی تھی جنہیں ملک میں طاقت کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ کوئی پہلی مثال نہیں کہ کسی صحافی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو یا دباؤ ڈالا گیا ہو، عمران ریاض خان، ارشد شریف اور سمیع ابراہیم سمیت کئی اور نامور صحافی پہلے ہی ایسے حملوں کا سامنا کرچکے ہیں۔
دور کیوں جائیے؟ 25 مئی 2021 کو ایک صحافی اسد علی طور پر 3 نامعلوم افراد نے حملہ کیا جو اسلام آباد میں ان کے اپارٹمنٹ میں زبردستی داخل ہوئے۔ انہوں نے اسد طور کو باندھ کر ان کے ساتھ شدید مارپیٹ کی۔ اسد طور نے کہا کہ آنے والوں نے اپنی شناخت سکیورٹی ایجنسی کے حوالے سے کرائی، مجھ سے آمدن کے ذرائع پر پوچھ گچھ کی اور موبائل فون اور دیگر سازوسامان چھین لیا۔ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ ستمبر 2020 میں حکام نے اسد طور پر سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کو بدنام کرنے پر مبنی تبصروں کیلئے ملک سے بغاوت کا الزام عائد کیا تاہم بعد ازاں ایک عدالت نے مذکورہ الزامات مسترد کردئیے۔
پھر 20 اپریل کو اسلام آباد میں ایک نامعلوم حملہ آور نے ٹیلی ویژن کے صحافی ابصار عالم کو ان کے گھر کے باہر گولی مار کر زخمی کر دیا۔ ابصار عالم حکومت کے بڑے ناقد رہے ہیں۔ ستمبر 2020 میں حکام نے ابصار عالم پر سوشل میڈیا پر حکومت کے بارے میں تضحیک آمیز زبان استعمال کرنے پر سنگین غداری کا الزام عائد کیا۔
اس کے علاوہ 21 جولائی 2020 کو ایک نامعلوم حملہ آور نے اسلام آباد میں ایک اور صحافی مطیع اللہ جان کو مبینہ طور پر تضحیک و توہین آمیز زبان استعمال کرنے اور عدلیہ کو بدنام کرنے کے الزامات میں سپریم کورٹ میں پیش ہونے سے ایک دن قبل اغوا کر لیا۔ مطیع اللہ جان کو چند گھنٹوں کے بعد رہا کر دیا گیا۔ مطیع اللہ جان کا دعویٰ ہے کہ اغوا کار انہیں ڈرانے کی کوشش کر رہے تھے جس پر فوجداری مقدمہ درج کر لیا گیا۔
مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی صحافیوں کو طویل عرصے سے اپنے کام میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جن میں ہراساں کرنا، دھمکیاں دینا، حملہ کرنا، ماورائے عدالت گرفتاری، حراست، اغوا اور قتل شامل ہیں۔ دھمکیوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی حکام نے نیوز ایڈیٹرز اور میڈیا مالکان کو تنقیدی آوازیں بلند کرنے پر بھی دباؤ ڈال کر خاموش کرانے کی کوشش کی۔
ایک اور واقعے میں 29 مئی کو نجی ٹی وی چینل (جیو) نے معروف صحافی اور ٹی وی میزبان حامد میر کے ٹاک شو کیپٹل ٹاک کو بند کردیا جب انہوں نے اسد طور کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئے احتجاجی جلسے میں خطاب کیا۔
حالیہ برسوں میں کئی معاملات میں سرکاری ریگولیٹری ایجنسیوں نے کیبل آپریٹرز اور ٹیلی ویژن چینلز کو بلاک کر دیا جو تنقیدی پروگرام نشر کرتے تھے۔ 2020 میں پاکستان صحافیوں کے سالانہ عالمی استثنیٰ انڈیکس کے تحفظ کے لیے کمیٹی میں نویں نمبر پر ہے جس کی وجہ 2010 سے لے کر اب تک صحافیوں کے قتل کے کم از کم 15 ایسے کیسز ہیں جن کے ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوسکے۔
اگست 2020 میں سرکردہ خواتین صحافیوں کے ایک گروپ نے ایک بیان جاری کیا جس میں سوشل میڈیا کے حملوں کی مبینہ طے شدہ اور مربوط مہم کی مذمت کی گئی، جس میں خواتین صحافیوں اور مبصرین کو حکومت کے خلاف رپورٹنگ اور تنقید پر عصمت دری اور موت کی دھمکیاں دینا شامل ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی حکومت صحافیوں پر حالیہ حملوں کی فوری، غیر جانبدارانہ اور مؤثر تحقیقات کرے۔ حکومت کو ایسی سرکاری پالیسیوں کو منسوخ کرنا چاہیے جن سے میڈیا کی آزادئ اظہارِ رائے پر قدغنوں کیلئے حکام کو کھلی چھوٹ ملتی ہو اور سرکاری اہلکاروں کے میڈیا کو دھمکانے میں مدد ہوسکے جبکہ عالمی سطح پر ایسے اقدامات سے حکومت کے قد کاٹھ اور ملکی وقار میں اضافہ ہوگا۔