لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے پوش علاقے میں معصوم بچے کے قتل اور تشدد نے معاشرے کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے، فریج سے کھانا کھانے کی غلطی کی پاداش میں مالکان نے گیارہ سالہ معصوم ملازم کو مبینہ طور پر قتل کردیا اور اُس کے پانچ سالہ چھوٹے بھائی کو زخمی کردیا۔
واضح رہے کہ چائلڈ لیبر اور تشدد کا یہ واقعہ کوئی نیا نہیں، ماضی میں اِس سے پہلے بھی کئی ایسے واقعات ہوچکے ہیں لیکن حکومت اِن واقعات کیخلاف مناسب کارروائی کرنے اور تشدد جیسے واقعات کو روکنے میں ناکام ہے۔
معصوم بچوں کا قتل اور تشدد ہی صرف جرم نہیں بلکہ اصل جرم چائلڈ لیبر ہے جو کہ ایسی کئی برائیوں اور مسائل کو جنم دیتا ہے۔
تاہم، متاثرین کو جلد از جلد انصاف دلانے کے علاوہ، حکومت کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ایسی صورت حال پیش ہی کیوں آتی ہے؟ اگر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے قانون مکمل طور پر واضح ہے لیکن اُس پر عملدرآمد نہیں ہے۔
ماضی میں، گھریلو ملازمت کو مناسب روزگار کے دائرے میں لانے کی کوششیں کی گئی تھیں، لیکن وہ کوششیں زیادہ تر مضبوط ثقافتی اور تجارتی رکاوٹوں کی وجہ سے ناکام ہوئیں جو چائلڈ لیبر کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ تاہم، یہ قانون پنجاب کے ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2019 کے ساتھ تبدیل ہوا، جو 15 سال سے کم عمر کے بچوں کی گھریلو ملازم کے طور پر ملازمت کو مجرم قرار دیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ گھریلو ملازمین روزانہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کریں گے۔
یہاں پر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ پاکستان میں اس قانون پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے، کیوں کہ گھریلو ملازمین کی ملازمت ملک کے بعض حصوں میں اس قدر سرایت کر گئی ہے کہ اسے چھپانے کی کوئی کوشش بھی نہیں کی جاتی۔
حکومت کو اس قانون پر عمل درآمد اور اسے وسعت دینے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی ملازمت بغیر معاہدے کے نہ ہو۔ مزید برآں، یہ وقت ہے کہ لیبر قوانین کے تحت “مزدور” کی تعریف کو وسعت دی جائے تاکہ گھریلو ملازمین لیبر کورٹس کی طرف سے مزدوروں کو دی جانے والی مراعات سے مستفید ہوسکیں۔