انصاف کی ضرورت

تازہ ترین

تازہ ترین

قیامِ پاکستان کے بعد ملک کی قیادت اور حکمرانی اراکینِ اسمبلی، وزراء اور عدلیہ کے علاوہ پاک فوج نے بھی سنبھالی اور عوام کی جانب سے اس حکمرانی پر ہر گزرتے روز کے ساتھ مختلف سوالات اٹھائے جانے کا سلسلہ بھی دراز ہوتا چلا گیا۔

مندرجہ بالا ریاستی ستونوں نے اپنے اپنے شعبہ جات میں عوام کی رہنمائی، قیادت اور حکمرانی کے فرائض سرانجام دئیے۔ سیاستدان ہمیشہ کہتے رہے کہ ہم عوام کی خدمت اور فلاح و بہبود کیلئے اقتدار میں آئے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ کوئی حقیقت نہیں تھی۔

اسی طرح ملک کی عدلیہ نے بھی قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگایا اور مختلف کیسز پر زور و شور سے کام شروع کردیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غریبوں کو احساس ہوا کہ انصاف کی حکمرانی صرف امیروں کیلئے ہے اور ہمارے لیے صرف اور صرف عدالت کے چکر ہیں، اور کچھ نہیں۔

آج بھی جب کسی امیر کا بیٹا غریب کسان کے گھر پر حملہ کرکے اس کی بیٹی کو اغوا کرکے لے جائے تو اسے پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا اور اگر کوئی غریب غصے میں آ کر کسی امیر کو تھپڑ ہی مار دے تو مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق بنی اسرائیل انہی جیسی چیزوں سے ہلاک ہوئے، جب ان میں کوئی اونچے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر ان میں کوئی نچلے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔ اگر اس جگہ فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔

گویا ریاست ماضی میں بھی غریب کے مقابلے میں امیر کا ساتھ دیتی تھی اور آج بھی ایسا ہی کر رہی ہے۔ اگر کسی نے حقیقی عدل و انصاف کا نفاذ کرکے دکھایا تو وہ صرف محمدِ عربی ﷺ اور ان کے حقیقی پیروکار تھے اور یہی وہ ریاستِ مدینہ تھی جس کی مثالیں سابق وزیر اعظم عمران خان نے دیں۔

مدینہ کی ریاست بلا شبہ حقیقی عدل و انصاف کا نمونہ قرار دی جاسکتی ہے جہاں کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر سوائے تقویٰ کے، کوئی برتری حاصل نہیں تھی۔ حکمران عوام کی خیریت جاننے کیلئے راتوں کو اٹھ اٹھ کر گشت کیا کرتے تھے اور معلوم کرتے تھے کہ کہیں کوئی بھوکا تو نہیں سو گیا؟

آج پاکستان کی گلیوں اور سڑکوں پر جا کر دیکھئے تو چھتوں سے محروم، مفلوک الحال غریب آسمان کو چادر بنا کر سو رہے ہیں اور امیر بسترِ راحت پر خوابِ خرگوش کے مزے لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیا یہی وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جس کا قائدِ اعظم نے ہم سے وعدہ کیا تھا؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ قائدِ اعظم کے وعدے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تصور کو حقیقی جامہ پہنانے کیلئے اسلامی قوانین کے عین مطابق نظامِ عدل و انصاف کا قیام عمل میں لایا جائے اور امیر و غریب کی تخصیص کے بغیر ہر انسان کو بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔

Related Posts