انسانی جسم میں موٹاپے کا باعث بننے والی 6 طبی پیچیدگیاں کون سی ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

انسانی جسم میں موٹاپے کا باعث بننے والی 6 طبی پیچیدگیاں کون سی ہیں؟
انسانی جسم میں موٹاپے کا باعث بننے والی 6 طبی پیچیدگیاں کون سی ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں موٹاپے کی کم و بیش 90 فیصد ذمہ دار انسان کی غیر مناسب خوراک، زیادہ سے زیادہ اور وقت بے وقت کھانا ہوتا ہے تاہم محققین نے ایسی 6 طبی پیچیدگیاں بھی دریافت کی ہیں جو انسان کو موٹا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ بعض ایسی بیماریاں ہیں جو انسان کو بڑی تیزی سے موٹا کرنے کا سبب بنتی ہیں یا پھر ان کی وجہ سے ایسے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں کہ انسان ضرورت سے زیادہ کھانے پر مجبور ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ موٹاپے کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ ایسی ہی 6 طبی پیچیدگیاں مندرجہ ذیل ہیں:

یہ بھی پڑھیں:

واٹس ایپ نے صارفین کی سہولت کیلئے نیا فیچر متعارف کروادیا

لیپٹن کی کمی

کلیو لینڈ کلینک کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں لیپٹن ایک ایسا ہارمون ہے جو بھوک کو دبانے میں مدد دیتا ہے۔ اس سے انسان بھوک کے ساتھ ساتھ اپنا وزن بھی کنٹرول کرسکتا ہے جس کا براہِ راست تعلق انسانی جسم میں پائی جانے والی چربی سے ہوتا ہے۔

انسانی جسم جتنی چربی ذخیرہ کرتا ہے، لیپٹن اتنا ہی زیادہ انسانی خون میں شامل ہوجاتا ہے جو بھوک میں تبدیلیاں لانے کیلئے سگنلز بھیجتا ہے تاکہ انسان کیلوریز جلانے اور کھانے میں مطابقت پیدا کرسکے۔ جن لوگوں میں اس ہارمون کی کمی ہوتی ہے، وہ بار بار کھانے کی حاجت محسوس کرتے ہیں۔ 

گردوں کی بیماری 

میڈیکل نیوز ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق بعض اوقات گردے کے مسائل بھی انسانی وزن میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، حالانکہ ان سے بھوک میں کمی ہوتی ہے۔ اگر گردے صحیح طریقے سے اپنا کام نہ کریں تو انسانی جسم کو سیال اور فضلے سے پاک نہیں کرسکتے جو انسانی بافتوں میں جمع ہوتا رہتا ہے۔

اس کی پہچان یہ ہے کہ مریض کو اپنی ٹانگوں، ٹخنوں اور پیروں میں سوجن نظر آنے لگتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ پیشاب کی مقدار بھی کم ہوجائے اور جب پیشاب آتا ہو تو مریض کا پیشاب جھاگدار نظر آنے لگے۔ 

پولی سسٹک اوورین سنڈروم 

بعض انسان اپنے جسم کے وسطی حصے میں وزن میں غیر واضح قسم کا اضافہ نوٹ کرسکتے ہیں۔ میو کلینک کا کہنا ہے کہ یہ حالت مردانہ ہارمون اینڈروجن کی زیادتی اور کم درجے کی سوزش کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

مذکورہ سنڈروم کی وجہ سے انسانی جسم میں مہاسے، کمر، سینےاور چہرے پر بالوں کی غیر معمولی نشوونما، مردانہ طرز کا گنجا پن اور خواتین کی بیضہ دانی پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں تاہم اس حالت کا تاحال کوئی علاج دریافت نہیں کیا جاسکا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طرزِ زندگی میں تبدیلیوں اور ہارمون تھراپی سے کسی حد تک آرام مل سکتا ہے۔ 

ذہنی دباؤ

لوگ سمجھتے ہیں کہ انسان موٹا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ اسے کوئی فکر نہیں ہوتی اور وہ بڑی بے فکری سے کھا کھا کر خود کو موٹا کر لیتا ہے تاہم ماہرین کی متضاد رائے یہ ہے کہ ذہنی دباؤ بھی موٹاپے کا ایک سبب ہوسکتا ہے۔

ڈپریشن میں مبتلا افراد اکثر نیند کے مسائل اور کم توانائی کا شکار رہتے ہیں جو راحت پانے کیلئے خوراک اور مشروبات کا سہارا لیتے ہیں جس سے ان کے موٹاپے میں بھی اضافہ ہونے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ ڈپریشن دور کرنے کیلئے دوا لینے سے بھی موٹاپا ہوسکتا ہے۔ 

ہائپو تھائیرائڈزم 

تھائیرائڈ سے مراد گردن میں موجود ایک اینڈوکرائن غدود ہے جو جسم کے بہت سے خودکار افعال منظم کرتا ہے جس میں میٹا بولزم، جسمانی درجۂ حرارت اور دل کی دھڑکن شامل ہیں تاہم تھائرائڈ غدود کے سست پڑنے کی وجہ سے وزن بڑھ جاتا ہے۔

غدود کی سستی کے باعث انسان تھکاوٹ محسوس کرتا ہے، جلد خشک ہوجاتی ہے اور سردی کا احساس بھی ہونے لگتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائپو تھرائیرائڈزم کا پتہ چلانے کیلئے خون کا ٹیسٹ کرایا جاسکتا ہے اور اگر یہ طبی پیچیدگی موجود ہو تو دواؤں کے ذریعے اس کا علاج بھی ہوسکتا ہے۔ 

دل کے مسائل 

امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے ہارٹ فیل کی وجہ سے انسان کا وزن تیزی سے بڑھنے لگتا ہے۔ اگرچہ ہر شخص کو ہی روزانہ کی بنیاد پر وزن میں اتار چڑھاؤ کا سامنا ہوسکتا ہے تاہم ایک روز میں 2 پاؤنڈ یا ہفتے میں 5 پاؤنڈ تک اچانک اضافے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کا دل مشکل میں ہو۔ 

ہارٹ فیل اس وقت ہوتا ہے جب دل مؤثر طریقے سے خون پمپ کرنے میں ناکام ہوجائے۔ اس بیماری کی دیگر علامات میں چکر آنا، سینے میں درد، دل کی بے قاعدہ دھڑکن، سانس لینے میں دشواری، ٹخنوں، ٹانگوں اور پیروں میں سوجن شامل ہیں۔

موٹاپے سے نجات کیلئے طبی مسائل کا شکار افراد کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنا وزن کنٹرول رکھنا انسان کا حق ہے اور اگر وزن بلا وجہ بڑھ رہا ہو تو اس کی وجوہات جاننے کیلئے بھی معالج سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ 

Related Posts