حکومت پاکستان اور یورپی یونین نے ملٹی اینول انڈیکیٹیو پروگرام (MIP) کا آغاز کیا ہے جس میں 2021-2027 کی مدت کا احاطہ کیا گیا ہے جس کی ابتدائی گرانٹ 265 ملین یورو کم از کم تین سال کے لیے مختص کی گئی ہے۔ MIP ایک باہمی تعاون پر مبنی پروگرام ہے جس کا مقصد اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانا ہے جیسے کہ اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی پائیداری، توانائی، قانون کی حکمرانی، اچھی حکمرانی اور انسانی حقوق۔ تاہم، MIP پروگرام کی ابتدائی رپورٹ کوئی اچھی تصویر نہیں پیش کرتی اور جس طرح سے اس وقت ملک کی سیاست چل رہی ہے ہوسکتا ہے کہ اس پروگرام کا کامیاب نتیجہ نہ نکلے، جو ہمارے مستقبل کے تعاون اور شراکت کے مواقع کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔
اس سال ایم آئی پی کے تحت پاکستان کو تین درج ذیل ترجیحی شعبوں امداد فراہم کی جائے گی، جامع ترقی، انسانی سرمایہ اور گورننس، بشمول قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق۔ تاہم، یورپی یونین نے واضح طور پر مشاہدہ کیا ہے کہ پاکستان میں سیاست انتہائی متعصبانہ ہوچکی ہے، 2008 کے بعد سے تین بات انتخابات ہوئے اور سویلین حکومتوں کو اقتدار کی پر امن منتقلی کے باوجود حکومت اور پارلیمنٹ کے درمیان بہت کم تعاون سمجھوتہ ہوپایا، رپورٹ میں واضح طور پر دیکھا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کے اداروں کا کام فرسودہ ریگولیٹری فریم ورک اور قانون سازی سے متاثر ہوا ہے، اسٹیک ہولڈرز کے درمیان کوئی ہم آہنگی اور تعاون نہیں ہے۔
یہ مشاہدات مجرمانہ ہوسکتے ہیں لیکن سچ پوچھا جائے تو ان سے انکار نہیں کیا جاسکتا، ان سات مہینوں میں پارلیمنٹ نے عوام کے سامنے جو کارکردگی اور ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے وہ اس کے ثبوت کے لئے کافی ہے اور ابھی سال ختم نہیں ہوا۔ یہ بات ہمارے سیاست دانوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ بڑھتی ہوئی فرقہ واریت، ہم آہنگی کا فقدان اور پارلیمنٹ میں تمام تنازعات کو عدالتوں کے حوالے کرنے کی ایک قیمت ہے۔
یہ فضول سیاست اور پارلیمنٹ کا کام کرنے سے قاصر ہونا مستقبل میں شراکت داری، فنڈنگ اور سپورٹ کو محفوظ بنانے کی ہماری کوششوں کو متاثر کرے گا۔ ہماری سیاسی جماعتوں کو تفرقہ انگیز بیانیے کو روک کر کم از کم اہم قومی معاملات پر میز پر آنے کی ضرورت ہے۔