ملک کو میثاق معیشت کی ضرورت ہے!

تازہ ترین

تازہ ترین

آڈیو لیکس کے تابڑتوڑ جاری سلسلے کے بیچ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی اپنی حکمت عملی پر عمل در آمد جاری رکھی ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں جب وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اہم اور اعلیٰ سطح اجلاسوں اور وفاقی کابینہ کے ارکان کی بعض نجی قسم کی گفتگو کی ٹیپس لیک ہونا شروع ہوئیں تو سیاسی مبصرین کا خیال تھا کہ حکومت جو پہلے ہی عمران خان کی تحریک کے باعث قدرے دباؤ محسوس کر رہی ہے، اب وہ ان لیکس کا بوجھ نہیں سہار پائے گی اور اسے اپنا وجود قائم رکھنے کیلئے بڑے مسائل درپیش ہوں گے، تاہم کچھ ہی دنوں میں بازی پلٹ گئی اور لیکس کا رخ حکومت سے ہٹ کر تحریک انصاف، اس کے سربراہ اور دیگر رہنماؤں کی طرف ہوگیا اور اوپر تلے کئی ایک آڈیو ٹیپس ایسی سامنے آگئی ہیں، جو بظاہر پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کی سیاسی ساکھ کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں، چنانچہ لیکس کا رخ اپوزیشن کی طرف پھرنے کے بعد حکومت نے کسی قدر سکھ کا سانس لے لیا ہے، مگر اس کیلئے عمران خان کی تحریک سے نمٹنے کا مشکل چیلنج ہنوز برقرار ہے۔

آڈیو لیکس کا طوفان کہاں جا کر تھمے گا اور گرد و غبار چھٹنے کے بعد “یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین، پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ” کے مصداق کیا کچھ سامنے آئے گا، اس کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم اس وقت قومی سیاست کا منظر نامہ یہی ہے کہ دونوں طرف حتمی اور فیصلہ کن مقابلے اور ایک دوسرے کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کیلئے تیاریاں برابر جاری ہیں۔ یہ سب ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب ملک کا بال بال قرضوں میں جکڑا ہوا ہے، معیشت کی بحالی تا حال ایک مشکل چیلنج کے طور پر ٹھوس اور جامع اقدامات کی راہ تک رہی ہے، سیلابوں سے ہونے والے نقصانات کا ملبہ پہاڑ کی طرح کھڑا ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے کہ حکومت کے تمام تر اقدامات کے باوجود ہنوز بڑی حد تک بے قابو ہے۔

 موجودہ حکومت کیلئے اول دن سے معیشت کی بحالی ایک بڑا چیلنج تھی، حکومت کے آغاز کے ساتھ ہی ن لیگ کے رہنما مفتاح اسماعیل نے یہ معرکہ سر کرنے کی بھاری ذمے داری اٹھائی مگر چھ ماہ میں تمام تر کوششوں کے باوجود وہ اس سمت کوئی قابل اطمینان قدم نہیں اٹھا سکے، جس کے بعد حکومت مجبورا لندن میں مقیم جناب اسحاق ڈار کو یہ بھاری پتھر اٹھانے کیلئے وطن واپس بلوا لائی۔ حکومت اب پر عزم اور مطمئن ہے کہ اسے معیشت کو درست ٹریک پر لانے میں کامیابی حاصل ہوگی۔ ابتدائی طور پر اسحاق ڈار کے اقدامات سے کچھ مثبت اشارے ملے بھی ہیں، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ پر موجود ہے کہ معیشت کی بحالی کسی تنہا شخصیت کے بس کی بات نہیں۔ یہ صرف حکومت کی بھی ذمے داری نہیں۔ معاشی بحالی کیلئے ماحول سازی تمام عوامی نمائندہ سیاسی جماعتوں کا فرض ہے اور سب کو اپنی اپنی جگہ اپنے حصے کی ذمے داری ادا کرنا ہوگی، اس کے بعد ہی معیشت بحالی کی راہ پر گامزن ہوسکتی ہے۔

معیشت کی بحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ سیاسی عدم استحکام ہے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی اس امر کا اظہار کر چکے ہیں، اس ضمن میں اسحاق ڈار نے گزشتہ دن میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ سیاسی جماعتوں کو یہ طے کرنا چاہیے کہ معیشت پر کوئی سیاست نہیں کی جائے گی۔ بلاشبہ اس وقت ایک ایسا معاشی معاہدہ یا میثاق معیشت وقت کی اہم ضرورت ہے، جس میں تمام حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں باہم سر جوڑ کر معیشت کی بحالی کیلئے ٹھوس اور جامع نکات پر مشتمل طویل المدتی منصوبہ طے کرکے اس پر ہر صورت عملدر آمد کا عہد کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ وقت سیاسی مہم جوئیوں اور حکومت و اپوزیشن کی باہم محاذ آرائی کا ہرگز نہیں ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اپوزیشن حالات کی نازکی کا ادراک کرتے ہوئے اختلافی مسائل سڑکوں کے بجائے پارلیمان میں حل کرنے کی راہ اپنائے، سڑکوں پر محاذ قائم کرنے سے سوائے معاشی طور پر تباہ حال پاکستان کے مزید نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔  

Related Posts