ملک کی سیاسی فضا ہر گزرتے وقت کے ساتھ بدلتی جارہی ہے کیونکہ آئے روز سیاسی رہنماؤں کی لیکس جاری ہورہی ہیں۔
گزشتہ روز سوشل میڈیا پر نامعلوم ذرائع سے سابق وزیراعظم عمران خان کی دو نئی آڈیو لیک ہوئیں جس میں وہ نمبر گیم کے حوالے سے بات کررہے تھے۔
عمران خان کی پہلی آڈیو لیک میں انھیں کسی نامعلوم شخص سے نمبر گیم مکمل نہ ہونے پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔
دوسری ریکارڈنگ میں پی ٹی آئی کی اہم رہنما شیریں مزاری کو اسد عمر اور سابق وزیراعظم کے ساتھ بات چیت کرتے سناجاسکتا ہے، اس ریکارڈنگ میں وہ سائفر کے ساتھ کھیلنے کی باتیں کررہے ہیں ، ریکارڈنگ میں وہ عمران کے خلاف ووٹ کرنے والوں کو میرجعفر اور میر صادق کہہ رہ ہیں۔
ان آڈیو لیک کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کی آڈیو لیکس جعلی ہیں جن کو کاپی پیسٹ کرکے تیار کیا گیا ہے۔
عمران خان نے میانوالی میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز پر ’ڈیپ فیک‘ آڈیو بنانے کا الزام لگایا اور اسے ’ان کی پارٹی کی خاصیت‘ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جلد ہی کچھ ’ڈیپ فیک‘ ویڈیوز سامنے آسکتی ہیں، اور خبردار کیا کہ اگر ان کی پارٹی چاہے تو اس طرح کی آڈیو اور ویڈیوز بھی بناسکتی ہے۔
معاملہ کچھ بھی ہویہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ اب تک لیک ہونے والی کسی بھی آڈیو میں مسلم لیگ (ن) یا پی ٹی آئی میں سے کسی کو بھی مستقل نقصان نہیں پہنچے گا۔
گزشتہ روز وفاقی وزیرداخلہ راناثناء اللہ نے کہاتھا کہ وزیراعظم آفس کی سیکیورٹی کے حوالے سے کی گئی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ لیکس میں کوئی غیر ملکی یا مقامی انٹیلی جنس ایجنسی ملوث نہیں تھی بلکہ اس کے بجائے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ ریکارڈنگ کسی ہیکر نے جاری کی ہو جواُن کے درمیان فون پر ہونے والی بات چیت کی جاسوسی کررہا ہو۔
وزیر داخلہ کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ یہ ایک قابل فہم وضاحت سے زیادہ ناقص پردہ پوشی کی طرح لگتا ہے کہ کس طرح دو موجودہ پاکستانی وزرائے اعظم کی غیر قانونی طور پر نگرانی کی گئی اور ان کے نجی معاملات کو عوام کے سامنے لایا گیا۔
لیک آڈیوز کا سلسلہ پی ٹی آئی کی قیادت کے لیے مشکلات ضرور پیدا کر رہا ہے لیکن اس تمام معاملے کے پیچھے اصل چہروں کو بے نقاب کرنا ضروری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں