سیاسی محاذ آرائی کا مخمصہ

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان میں سیاسی محاذ آرائی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، خصوصاً سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف جو تحریکِ عدم اعتماد لائی گئی اور پھر جو سیاسی رسہ کشی شروع ہوئی، اس سے معاشرے میں زبردست تبدیلیاں جنم لے رہی ہیں۔

سیاسی رسہ کشی کے عجیب و غریب رجحان کے باعث ناقابلِ تلافی تبدیلیوں نے پاکستانی معاشرے میں رواداری کے بے مثال جذبے کو نقصان پہنچایا۔ اسی طرح کی یکطرفہ سیاست کے باعث تقسیم در تقسیم کے مسائل پیدا ہوتے چلے گئے۔

تقسیم در تقسیم کا حال ملاحظہ کرنا ہو تو نوجوان نسل کے سوشل میڈیا پر جاری پیغامات دیکھ لیجئے کہ کون کس سیاسی جماعت کا ساتھ دیتا نظر آتا ہے اور کس حد تک؟ جس سے پتہ چلتا ہے کہ سیاست کی یہ بدلتی ہوئی خطرناک صورتحال یقینی طور پر قومی اتحاد اور صوبائی یکجہتی کی عمارت کو ہلا کر رکھ دے گی۔

ایسی صورتحال متعدد منفی عناصر ہمیشہ اپنے ساتھ لے کر آتی ہے جو معاشرتی ترقی کیلئے زہرِ قاتل سے کم نہیں ہوتے۔ تقسیم کی بنیاد پر سیاست کی بڑی وجوہات کثیر جہتی ہیں تاہم سب سے بڑی وجہ اتفاقِ رائے کا فقدان کہی جاسکتی ہے۔

صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپنی حالیہ تقریر کے دوران پی ٹی آئی اور حکومتی اتحادی سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کریں کیونکہ سیاسی محاذ آرائی کا خاتمہ وقت کی ضرورت بن چکا ہے جبکہ قومی اہمیت کے معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کے مابین ہمیشہ سے شدید اختلافات رہے۔

پاکستان میں سیاسی قیادت کی ہٹ دھرمی اور اپوزیشن کی غیر ضروری حد تک تنقید قومی اتفاقِ رائے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جسے کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

تشویشناک طور پر سیاست میں گالی گلوچ سے بھی معاشرے میں سیاسی محاذ آرائی کی بنیادیں مضبوط کی گئیں۔ ایک سیاستدان دوسرے کیلئے بے ہودہ تقاریر اور نازیبا تبصرے کرتا نظر آیا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معمول بنتا چلا گیا۔

ضروری نہیں ہے کہ تمام ہی سیاستدان گالی گلوچ اور نازیبا زبان کا استعمال کرتے ہوں۔ بہت سے سیاستدان بہت اچھے روئیے اور قومی تہذیب کا پاس رکھتے ہوئے گفتگو کرتے ہیں اور اپنے کام بھی سنجیدہ طریقے سے کرکے قوم کی خدمت کرتے ہیں تاہم بے شمار سیاستدان اپنے میڈیا بیانات میں نازیبا زبان استعمال کرتے پائے جاتے ہیں۔

حد تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ جیسے مقدس ادارے میں تقاریر کے دوران بھی گالی گلوچ اور نازیبا زبان استعمال کی جاتی ہے۔سیاسی محاذ آرائی ختم کرنے کیلئے ملک کے سنجیدہ اور ملک و قوم کا درد رکھنے والے سیاسی رہنماؤں کو ہی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ پاکستان تمام تر عصبیتیں بھول کر آگے بڑھ سکے۔ 

Related Posts