کس کس کو نااہل کرنا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جاری سیاسی رسہ کشی اس وقت دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگئی جب پی ٹی آئی نے سابق صدرِ مملکت اور پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے خلاف ریفرنس دائر کیا۔

تحریکِ انصاف کے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو جمع کرائے گئے ریفرنس میں سابق صدرِ مملکت کو نااہل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ دعویٰ کیا گیا کہ آصف زرداری نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں توشہ خانے سے 3 گاڑیاں لیں جس کے وہ اہل نہیں تھے۔

غور کیجئے تو کچھ ایسا ہی ریفرنس پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف بھی دائر کیا گیا تھا جس میں توشہ خانے سے تحائف کو ذاتی دولت سمجھ کر استعمال کرنے سمیت دیگر الزامات عائد کیے گئے۔ یوں توشہ خانے کے نام پر موجودہ حکومت عمران خان اور پی ٹی آئی آصف زرداری سمیت دیگر سیاسی قائدین کو نااہل کروانا چاہتی ہے۔

ماضی کا جائزہ لیجئے تو ایک اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل کیا جاچکا ہے جن کیلئے موجودہ حکومت وطن واپسی کی راہیں ہموار کرتی نظر آتی ہے۔اگر قارئین کو یاد نہ ہوتو اپنے اذہان میں نیب آرڈیننس ترامیم کی یادیں تازہ کرلیں، سب کچھ واضح ہوجائے گا۔

بلاشبہ یہ تاثر مکمل طور پر درست قرار نہیں دیاجاسکتا، تاہم پاکستان میں زیادہ تر لوگ یا تو اپنا کام ٹھیک طریقے سے کرتے نہیں یا پھر کرنا نہیں چاہتے۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہمارے ملک کے سیاستدان ہیں جن کا کام انتخابات لڑ کر اسمبلیوں میں خود بھی بیٹھنا اور دوسروں کو بھی بٹھانا تھا تاکہ ان کے مزید بڑے عہدوں مثلاً وزیر اعظم یا صدرِ مملکت تک رسائی آسان ہوسکے۔

تاہم ہو یہ رہا ہے کہ ہمارے دور کے سیاستدان انتخابات لڑ کر اسمبلیوں میں نہ خود بیٹھتے ہیں نہ دوسروں کو بیٹھنے دیتے ہیں، جیسا کہ پی ٹی آئی کی مثال ہمارے سامنے ہے جو عوامی ووٹوں سے منتخب ہو کر سامنے آئی لیکن ان کے قانون ساز اسمبلیوں میں نہیں جاتے۔

بڑا سوال یہ ہے کہ آپ کس کس کو نااہل کریں گے؟ کسی کو تو اپنا کام کرنے دیجئے۔ کچھ اسی طرح کی مثال مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی بھی دی جاسکتی ہے جو اسمبلیوں میں خود تو بیٹھتے ہیں لیکن دوسروں کو نااہل کروانے کیلئے فعال نظرآتے ہیں جبکہ ملکی سیاستدانوں کی یہ روش ان کے حقیقی کام کے بالکل برعکس ہے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں چونکہ عوامی ووٹوں سے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں آئے، تو انہیں قانون سازی کا فریضہ سرانجام دینا اور اس پر بحث و تمحیص کرنی چاہئے تھی، عوامی مسائل کا حل نکالنا چاہئے تھا، لیکن یہ سب کچھ چھوڑ کر سیاسی رسہ کشی کو ہمیشہ کا وطیرہ بنا لیا گیا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے دور کا سیاستدان اپنے فرائضِ منصبی کو سمجھے اور سیاسی معاملات عدالت لے جانے کی بجائے سیاسی افہام و تفہیم کا راستہ اپنائے اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دے، تاکہ مہنگائی و بے روزگاری سے تنگ اور صحت و تعلیم سمیت دیگر بنیادی سہولیات سے محروم عوام کے مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو۔ 

Related Posts