شریف خاندان کی چشم و چراغ مریم نواز آج سے 5 روز قبل بنفسِ نفیس لندن جاپہنچیں اور میڈیا پر زیرِ گردش خبروں کے مطابق انہیں آئندہ ماہ یعنی نومبر کی 6تاریخ کو وطن واپس پہنچنا ہے اور پہنچنا بھی نواز شریف کے ہمراہ ہے۔
بظاہر تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ نیب آرڈیننس میں ترامیم کے راستے سے وفاقی حکومت نواز شریف کی وطن واپسی کی راہ پہلے ہی ہموار کرچکی اور جس طرح اسحاق ڈار وزیر اعظم شہباز شریف کے طیارے میں بیٹھ کر وطن واپس پہنچے، کچھ اسی قسم کی تاریخ مریم نواز اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے معاملے میں بھی دہرائی جاسکتی ہے۔
تاہم یہ معاملہ اتنا سیدھا ہے نہیں جتنا دکھائی دیتا ہے کیونکہ نواز شریف جو بیماری کے بہانے سے بڑے سکون و اطمینان سے لندن روانہ ہوئے اور لندن بیٹھ کر بھی اپنی کچھ تصاویر پی ٹی آئی کے سابق وزراء کو سیخ پا کرنے کی غرض سے وقتاً فوقتاً سوشل میڈیا پر وائرل کرتے رہے، ان کی بیرونِ ملک روانگی ایسے ہی نہیں ہوگئی تھی بلکہ اس کے پیچھے کسی ڈیل کی موجودگی کے امکان کو مسترد نہیں کیاجاسکتا۔
بالکل اسی طرح اب جب نواز شریف وطن واپسی کیلئے پر تولتے نظر آتے ہیں تو جن عناصر سے پہلے ڈیل کی گئی تھی، وہ ڈیل بظاہر منسوخ ہوتی دکھائی دیتی ہے کیونکہ اس میں تو یہ طے ہوا تھا کہ نواز شریف کو بیرونِ ملک جانا تو ہے، واپس نہیں آنا اور کم و بیش 3 سال تک بیماری کے عذر کو طول دینا بھی اسی معاہدے کی پاسداری کا ایک طریقہ محسوس ہوتا ہے۔
اگر مندرجہ بالا مفروضے درست ہیں تو پھر ہمیں پی ٹی آئی رہنما اور سابق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کے 2 روز قبل دئیے گئے بیان سے رجوع کرنا ہوگا جس میں ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف این آر او 2022 کی تفصیلات قوم کے سامنے رکھیں۔ وہ سیاستدان ہیں، وطن واپس آنا چاہیں تو ہمیں اعتراض نہیں ہے۔
فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف ہمیں بتائیں کہ کس ڈیل کے تحت وطن واپس آرہے ہیں؟ ہم حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ چاہتے ہیں کہ عام انتخابات فساد کے بغیر منعقد ہوجائیں۔
گویا نواز شریف کی گزشتہ 3 سال سے اب تک ناممکنہ وطن واپسی اگر ممکن ہوئی تو فواد چوہدری کے بقول وہ این آر او 2022 کے نتیجے میں ہوگا اور اگر نواز شریف وطن واپس آتے ہیں تو راقم الحروف کی ناقص رائے میں مریم نواز کی وطن واپسی میں بھی کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے۔
آخر میں ملک کے نظامِ انصاف و سیاست پر کچھ اہم سوالات ضرور اٹھائے جاسکتے ہیں جن میں سب سے اہم سوال یہی ہوسکتا ہے کہ اگر نواز شریف کو نااہل کرنا درست تھا اور ان پر بدعنوانی کے تمام تر الزامات بھی ٹھیک تھے تو انہیں سزا کیوں نہیں دی گئی؟ اور اگر ان کی وطن واپسی اور دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہونے کی راہ ہموار ہونا درست ہے تو ایک منتخب وزیر اعظم اتنے عرصے تک اپنے وطن سے دور کیوں رکھا گیا؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں