لڑکیوں کا عالمی دن

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان سمیت دنیا بھر میں لڑکیوں کا عالمی دن ہر سال 11 اکتوبر کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد بچیوں کو درپیش مسائل بشمول صنفی امتیاز، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبرو تشدد کے خلاف آواز اٹھانا اور مردوزن کیلئے مساوی مواقع کی دستیابی یقینی بنانا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے 19دسمبر 2011 کے روز لڑکیوں کا عالمی دن منانے کی قرارداد منظور کی اور 2012 سے ہی ہر سال باقاعدگی سے یہ دن منایا جانے لگا۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ کورونا اور اسکولز بند کیے جانے سمیت دیگر مسائل کے باعث کم از کم 1 کروڑ بچیوں کی بلوغت سے قبل شادی کردی جائے گی۔

گزشتہ برس بھی اقوامِ متحدہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں پرائمری اسکول جانے کی عمر رکھنے والی 3 کروڑ 10 لاکھ بچیاں اسکول نہیں جاتیں اور 15 سے 19سال کی ہر 4 میں سے 1 یعنی 25 فیصد کے لگ بھگ لڑکیاں جسمانی تشدد کا شکار ہوجاتی ہیں۔

اگر ہم دورِ جاہلیت کی بات کریں تو کمسن بچیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ بچیوں کے ساتھ انسانیت سوز تشدد معمول کی بات بن چکی تھی اور صنفی امتیاز پر مبنی یہ معاشرہ دیگر بے شمار برائیوں کا بھی شکار تھا۔

آج سے 2 روز قبل پاکستانی قوم نے 12 ربیع الاوّل کے روز نبئ آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا یومِ ولادت بطور جشنِ عید میلاد النبی ﷺ منایا۔ آنحضرت ﷺ نے ہی عرب معاشرے میں بچیوں کو زندہ درگور کرنے جیسی بد ترین ظالمانہ روایت کا خاتمہ کیا اور بچیوں اور خواتین کو مساوی حقوق دئیے۔

پاکستان سمیت متعدد ممالک میں جب کسی شخص کے ہاں 21ویں صدی میں بھی بیٹی پیدا ہوتی ہے تو بے شمار لوگ صنفی امتیاز پر مبنی تبصرے کرتے نظر آتے ہیں۔ ساس، سسر سمیت دیگر رشتوں سے بھرپور مشرقی معاشروں بالخصوص پاکستان اور بھارت میں لڑکے کی پیدائش کو لڑکیوں سے آج بھی بہتر سمجھا جاتا ہے۔

ہم اگر معاشرتی روایات پر غور کریں تو بچیوں کی پیدائش پر منفی خیالات کا ذہن میں آجانا کوئی غیر فطری بات بھی نہیں سمجھی جاتی کیونکہ غریب لوگ سوچتے ہیں کہ اگر بیٹی پیدا ہوئی تو اس کا جہیز دینا پڑے گا اور اگر بیٹے نے جنم لیا تو گھر میں پیسہ آئے گا۔

تاہم اگر ہمارے غریب اور امیر مسلمان شہری یہ غور کرنا شروع کردیں کہ اسلام نے بیٹیوں کی پیدائش کو اللہ کی رحمت سے تعبیر فرمایا اور حکم دیا کہ اپنی اولادوں کو غربت کے ڈر سے قتل نہ کرو کیونکہ ان کا رزق اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لے لیا ہے تو ان کے بے شمار مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم لڑکی اور لڑکے میں فرق کرنا چھوڑیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ بے شمار لڑکیاں لڑکوں سے بہتر زندگی گزارتی ہیں۔ بیٹیاں اپنے والدین کی جتنی خدمت اور اطاعت کرتی ہیں، شاید ہی کسی بیٹے کو اتنی توفیق ہوتی ہو۔

Related Posts