کرکٹ کے آغاز کے بعد سے ہی پاکستان کو اس کی وضاحت کے لئے کئی عنوانات سے نوازا گیا ہے، ان میں سے ایک عنوان جو آج تک پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ پاکستان ایک ناقابل اعتبار ٹیم ہے۔
جب بات پاکستان کی ہو تو اعداد و شمار اور پیشین گوئیاں کبھی بھی کسی نتیجے کا تعین کرنے کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتیں اور یہ متعدد بار ثابت ہوچکا ہے، اس کی تازہ مثال پاکستان میں انگلینڈ کے خلاف کھیلی جانے والی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز اور سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز ہے۔ سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں گرین شرٹس نے فائنل جیت کر ٹی ٹوئنٹی کی مضبوط ٹیم نیوزی لینڈ کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کرلی۔
موجودہ ٹیم کی قیادت معروف بلے باز بابر اعظم کر رہے ہیں، جو 2019 سے کپتانی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور بطور کپتان ان کی جیت کا تناسب 65.21 فیصد ہے۔
ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کی اوپننگ جوڑی نسبتاً مضبوط ہے لیکن ٹیم کا مسئلہ مڈل آرڈر کاہے۔ پوری ٹیم ٹاپ آرڈر پر انحصار کرتی ہے جو کہ محمد رضوان اور بابر اعظم ہیں، اگر یہ جوڑی ناکام ہو جاتی ہے تو ٹیم کے لیے دوسری ٹیم کی جانب سے دیئے گئے ٹوٹل کا تعاقب کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
جمعے کے روز ٹیم کی جانب سے جو کھیل کھیلا گیا وہ بالکل مختلف تھا، کیونکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میگا ایونٹ سے عین قبل ٹیم کے مڈل آرڈر نے صحیح وقت پر اپنا کردار ادا کیا کیونکہ ٹاپ آرڈر ناکام ہو گیا تھا۔ محمد نواز اور حیدر علی کی شاندار اننگز نے پاکستان کو بلیک کیپس کے 164 رنز کے ہدف کا تعاقب کرنے میں مدد کی۔
پاکستان کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ فخر زمان بھی انجری سے صحت یاب ہو کر ورلڈ کپ کے لیے اسکواڈ میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس سے یقینی طور پر پلیئنگ الیون میں مثبت بہتری ہوگی۔
پاکستان کو بے خوف کھیل کھیلنے کی ضرورت ہے اور اٹیکنگ اپروچ کی ضرورت ہے کیونکہ مڈل آرڈر نے امید افزا مثبت انداز اپنایاہے۔ بے خوف کھیل ہوکر کھیلنا اور مثبت انداز یقیناً گرین شرٹس کے لئے میگا ایونٹ میں مددگار ثابت ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں