ملک میں جمعرات کو ہونے والا بلیک آؤٹ پاکستان کی حالیہ تاریخ کا پہلا واقعہ نہیں تھا، حکومت کی نااہلی کی قیمت ملک کے عوام نے چکائی ہے۔ 2021 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران بھی ملک کئی گھنٹوں تک اندھیرے میں ڈوبا رہا۔
گزشتہ سات سالوں میں یہ پاکستان کا چوتھا بڑا بجلی کا بریک ڈاؤن تھا۔ مئی 2018 میں بجلی کی فراہمی نو گھنٹے سے زائد عرصے تک جزوی طور پر منقطع ہوگئی تھی۔ 2015 میں، ایک پاور لائن پر حملے کے نتیجے میں تقریباً 80فیصد پاکستان اندھیرے میں ڈوب گیا تھا۔
جمعرات کی صبح سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے کچھ دوسرے علاقوں میں گرڈ اسٹیشن کی خرابی کے بعد کئی پاور اسٹیشنز ایک ایک کرکے بند ہونے کے باعث کئی گھنٹوں تک بجلی سے محروم رہے۔
وزارت پاور ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کراچی کے جنوب میں 500kV کی دو ٹرانسمیشن لائنوں میں خلل واقع ہوا۔ ماضی کی طرح، حکام کو خرابی کی نشاندہی کرنے اور بجلی کی فراہمی بحال کرنے میں کئی گھنٹے لگ گئے۔
پاور ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سسٹم کی خرابی کی تحقیقات اور اس خرابی کے ذمہ داروں کی نشاندہی کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
کمیٹی میں ایسے افسران شامل ہوں گے جو ملک کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کو اپنی لپیٹ میں لینے والے اس بریک ڈاؤن کے حقائق اور وجوہات کا جائزہ لیں گے۔ کمیٹی کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) کی بنیاد پر انکوائری میں اپنے نتائج اخذ کرے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کو پچھلے سات سالوں سے بجلی کی مسلسل بندش کا سامنا کیوں ہے؟ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے حال ہی میں NTDC پر ٹاورز کے ٹوٹنے اور گرنے کی وجہ سے 20 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔
لیکن کیا بجلی کے بریک ڈاؤن پر جرمانہ اور انکوائری کمیٹیاں بنانا حکومت کا واحد ردعمل ہے؟ بجلی کے بریک ڈاؤن کا مسئلہ سیاستدانوں سے سنجیدگی کا متقاضی ہے کیونکہ بار بار بریک ڈاؤن پہلے سے بیمار معیشت کے لیے اچھا نہیں ہے اور نہ ہی سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے۔
اس معاملے میں غفلت کے مرتکب ذمہ داروں کو ان کی غفلت کی مثالی سزا دی جانی چاہئے تاکہ ملک کو مستقبل میں اس طرح کے بلیک آؤٹ سے بچایا جاسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں