اسلام آباد: پاکستان کے پہلے وزیر اعظم اور شہید ملت لیاقت علی خان کا 71واں یومِ شہادت آج منایا جارہا ہے۔ ملک بھر میں مختلف سیمینار، مذاکرے، کانفرنسز اور دیگر تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
آج سے 71 سال قبل راولپنڈی میں واقع کمپنی باغ (موجودہ لیاقت باغ) میں ایک شقی القلب شخص نے 16 اکتوبر 1951ء کے روز لیاقت علی خان پر فائرنگ کی جس کے باعث ملک کے پہلے وزیر اعظم اور قائد اعظم کے دستِ راست شہید ہو گئے۔
انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، رانا ثناء اللہ سے وضاحت طلب
ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان بھارت کے علاقے کرنال میں ایک نواب خاندان میں 2 اکتوبر 1896ء کو پیدا ہوئے اور وکالت کی تعلیم حاصل کی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لینے کے بعد 1923ء میں وطن واپس آئے اور مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔
شہیدِ ملت لیاقت علی خان 1926ء میں اتر پردیش کی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1940ء تک یہ عہدہ اپنے پاس رکھا جس کے بعد انہیں مرکزی قانون ساز اسمبلی میں جگہ دی گئی۔انہوں نے دو شادیاں کیں جن میں سے پہلی شادی 1918ء میں ہوئی تھی۔
لیاقت علی خان کی پہلی شادی گریجویشن کی تکمیل کے ساتھ ہی جہانگیر بیگم سے جبکہ دوسری 1932ء میں بیگم رعنا لیاقت علی سے ہوئی جو ایک ماہر تعلیم اور ماہر معیشت کے طور پر مشہور ہوئیں۔قیامِ پاکستان کے بعد قائدِ اعظم نے لیاقت علی خان کو ملک کا پہلا وزیر اعظم مقرر کردیا۔
قائدِ اعظم کے دستِ راست سمجھے جانے والے لیاقت علی خان کو مختلف قومی تقریبات کے موقعے پرملک کے پہلے وزیر اعظم اور شہیدِ ملت کے طور پر خراجِ تحسین پیش کیا جاتاہے اور ٹی وی چینلز دستاویزی پروگرامز نشر کرتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








