چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف بنے 6 سال مکمل ہونے کو ہیں اور وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ عمران خان بھی تعیناتی کے معاملے پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔
جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر 2016 کو سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی بطور سربراہ پاک فوج ریٹائرمنٹ کے بعد آرمی چیف بنائے گئے اور ان کے 6سالہ دور میں پاکستان میں بڑی بڑی تبدیلیاں آئیں۔
بطور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نہ صرف پاک فوج کے سربراہ کے طور پر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھائیں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی جب جب پاکستان کو ضرورت پڑی، پاک فوج کے سربراہ صفِ اوّل میں نظر آئے۔
گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم عمران خان سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں تاہم آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر ان سے کوئی مشاورت نہیں ہوگی۔
دوسری جانب عمران خان نے مریدکے میں حقیقی آزادی مارچ کے موقعے پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ میں ان سے ملاقات کیلئے گیا تھا جن سے ملنے کیلئے شہباز شریف گاڑی کی ڈکی میں بیٹھ کر جایا کرتے تھے۔ شہباز شریف کے پاس بات کرنے کیلئے ہے کیا؟
ایک طرف آرمی چیف کی تعیناتی جیسا آئینی فریضہ ہےتو دوسری جانب سیاسی رسہ کشی و محاذ آرائی۔ حکومت کا یہ کہنا بجا کہ آرمی چیف کی تعیناتی پر عمران خان سے مشاورت نہیں ہوسکتی، تاہم عمران خان کا مطالبہ عام انتخابات کا انعقاد ہے۔
مریدکے میں خطاب کے دوران بھی عمران خان نے کہا کہ میرا مطالبہ صاف و شفاف انتخابات ہیں، تاہم حکومت انتخابات کے انعقاد میں بھی لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور وزیر اعظم شہباز شریف متعدد بار کہہ چکے کہ انتخابات عمران خان کی مرضی سے یا وقت سے قبل نہیں ہوں گے۔
یہاں یہ نکتہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ عمران خان پرجمعے کے روز بیک ڈور مذاکرات کا الزام عائد کرکے سوشل میڈیا پر ایک افواہ اڑائی گئی کہ حقیقی آزادی مارچ کا سفر ختم ہوا، تاہم بعد ازاں عمران خان نے اس افواہ کی تردید کی اور کہا کہ اگر مذاکرات ہوئے بھی تو میرا مطالبہ فوری انتخابات کی تاریخ ہوگا۔
دراصل عمران خان چاہتے ہیں کہ آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل ہی عام انتخابات کا اعلان کردیا جائے جس پر موجودہ حکومت راضی نہیں اور چیئرمین پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ کو بھی اسلام آباد پر چڑھائی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ ریڈ زون کی حدود میں اضافہ کردیا گیا۔
پاکستان کو سیاسی رسہ کشی سے نبرد آزما ہوتے ہوئے 50 سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا تاہم اپوزیشن اور حکومت کی رسہ کشی کسی بھی مقام پر ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے سیاستدان سر جوڑ کر بیٹھیں اور سیاسی محاذ آرائی کا شکار ملکی معیشت کی بہتری کیلئے اتفاقِ رائے کی تشکیل کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں