عالمی منظر نامے پر روس یوکرین جنگ کے بعد حالات نے جس تیزی سے کروٹ لی ہے، اس سے محسوس ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے ممالک کو جنگی ہتھیاروں کی کمی شدت سے کھٹکنے لگی ہے جس سے امریکا، روس اور دیگر دفاعی ہتھیار پیدا کرنے والے ممالک کا کاروبار چلتا ہے۔
پاکستان میں دفاعی ہتھیاروں کی تیاری کی خبریں تو کم کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں تاہم اس قسم کی پیش رفت سال میں متعدد مرتبہ دیکھنے کو مل جاتی ہے کہ پاکستان نے فلاں میزائل کا کامیاب تجربہ کیا اور عالمی منظر نامے پر ان دنوں کوریا کا نام لیا جاسکتا ہے جو ہتھیاروں کے تجربے کر رہا ہے۔
ضروری نہیں ہے کہ ہتھیار محض سکیورٹی کیلئے استعمال کیے جائیں بلکہ ہتھیاروں کو توسیع پسندانہ عزائم اور جنگی جنون کو فروغ دینے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً بھارت اور امریکا کی مثال ہمارے سامنے ہے جو مقبوضہ کشمیر، عراق اور افغانستان میں جنگی ہتھیاروں کو استعمال کرچکے ہیں اور اب بھی متعدد علاقوں میں جنگی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال جاری ہے۔
گزشتہ روز وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے عالمی دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022 کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال ترقی کیلئے مددگار ہے۔پاکستان نے دنیا بھر میں امن کیلئے کام کیا اور کرتا رہے گا۔
منگل کے روز شروع ہونے والی نمائش 18 نومبر تک جاری رہے گی۔ 4روزہ نمائش میں 64 ممالک شرکت کر رہے ہیں، 51 ممالک کے 285 وفود بھی نمائش کے انعقاد میں شریک ہیں۔انٹیلی جنس اِن ڈیفنس مارکیٹ کے عنوان سے سیمینار بھی منعقد ہوگا۔
عالمی نمائش کیلئے سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔ ایکسپو سینٹر کے 6ہالز کے ساتھ ساتھ 3مارکیز بھی قائم کر لی گئیں۔ ایک مارکی کو کشمیر کے نام سے منسوب کردیا گیا۔ 17 نومبر کو کراچی شو اور سی ویو پر ڈرلز کا انعقاد بھی دفاعی نمائش کا حصہ ہے۔
بالکل اسی طرح جیسے انٹرنیٹ کا استعمال مفید معلومات کے حصول کیلئے زندگی کی ضرورت بن گیا ہے تاہم منفی اذہان اسے مخربِ اخلاق تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں، دفاعی ہتھیاروں کو بھی منفی اور مثبت دونوں مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔
ایک طرف کوئی بھی توسیع پسند ملک دوسرے ملک پر حملہ کرکے اس کی زمین ہتھیانے کی کوشش کرتا ہے تو دوسری جانب جس ملک پر حملہ ہوتا ہے، دفاع کرنا اس کا مکمل حق ہوتا ہے جس کیلئے جدید ترین ہتھیاروں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستان نے دفاعی مصنوعات کی دنیا میں قدم رکھ کر اپنی ہمیشہ سے ہچکولے کھاتی معیشت کو سہارا دینے کیلئے مثبت سمت میں قدم آگے بڑھایا ہے جس پر مزید کام کی ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں