پاکستان کی سیاست میں تناؤ کا ماحول بتدریج شدت اختیار کرتا نظر آرہا ہے، پی ٹی آئی کا عزم ہے کہ اسلام آباد ہر حال میں پہنچنا ہے، وہ اپنی قوت کے جوہر دکھلانے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں اور دوسری جانب اسلام آباد میں پولیس اور دیگر سیکورٹی ادارے حکومت کی رٹ قائم کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ ہمارے وزیرداخلہ مونچھوں کو تاؤ دے دے کر جلوس سے نبردآزما ہونے کیلئے اپنی فورس کو مستعد کرکے بیٹھے ہیں اورایسی صورتحال میں ٹکراؤ کا نہ ہونا ایک انہونی بات سے کم نہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اپنی ضد پر اڑے ہیں، وہ الیکشن سے کم پر بات کرنے کو تیار نہیں، عمران خان نے لچک دکھلاتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ کسی بھی سینئر فوجی افسر کو سپہ سالار لگانے پر معترض نہیں ہیں لیکن پی ڈی ایم حکومت اس بات کو اپنا حق سمجھتی ہے کہ آرمی چیف لگانا ان ہی کا استحقاق ہے۔
عمران خان کا بیانیہ مضبوط سے مضبوط تر ہوا جاتا ہے، کہ ” ملک میں چوروں کو مسلط کردیا گیا ہے اور ہینڈلرز کو خود ہی اسے سنبھالنا ہے”۔ ان تمام نکات کو ملحوظ خاطر رکھ کر یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ کوئی انہونی ہونے والی ہے۔ نتیجتاً اگر ملک مزید تنزلی میں دھنستا چلا گیا تو شاید تاریخ بھی ہمیں معاف نہیں کرے گی ۔
یہ بات زباں زدعام اور ہر شخص کی خواہش اور تمنا ہے کہ ہمارے رہبر، ہمارے سیاستدان سر جوڑ کر بیٹھیں اور لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کریں۔ قوم کو تنزلی کے دلدل میں پھنسنے سے بچائیں، لیکن خواہشات اور تمناؤں کے باوجود صورتحال دگرگوں ہوتی جارہی ہے اور وقت ریت کی طرح ہاتھ سے پھسلتا جارہا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی سیاست سے گزشتہ کئی دہائیوں سے اسٹیبلشمنٹ کا بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق رہا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا اب ہم اس سمت میں حالات کو دھکیل رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے وہ ہاتھ دوبارہ متحرک ہوجائیں؟
موجودہ صورتحال میں ریاست اور سیاست آمنے سامنے ہیں، ہمیں ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔ رہبروں اور سیاستدانوں نے دانائی نہ دکھلائی تو ریاستی اداروں کے ہاتھ اور کوئی راستہ نہیں ہوگا کہ وہ ریاست کیلئے کھڑے ہوکر منفی قوتوں کو آہنی ہاتھوں سے کچلنا شروع کردیں۔
پاکستان میں نئی تاریخ رقم ہورہی ہے لیکن احتمال ہے کہ خدانخوستہ حالات ایسی نہج پر نہ پہنچ جائیں کہ ہمارے ہاتھ میں پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہ رہے۔ اس سے پہلے کہ تاریخ اور سوشل میڈیا کو دباکر ایسے حالات پیدا کردیے جائیں کہ بقول شاعر:
ہر دور میں اشارۂ ابروئے شاہ پر
کل کے مؤرخین جھکے ہیں حضور میں
تاریخ وہ نہیں ہے جو لفظوں میں قید ہو
تاریخ لکھی جاتی ہے بین السطور میں
ہمارے رہبروں کو حالات کی سنگینی کا شاید ادراک ہی نہیں، ہمارے ملک میں 5 کروڑسے زائد لوگ ایسے ہیں جن کی آمدن صرف 3 ہزار روپے مہینہ ہے۔ ایک سو روپیہ یومیہ کمانے والا تو اس وقت موت اور زیست کے منہ میں پڑا ہے۔ مہنگائی میں متوسط طبقے کو کسمپرسی کا سامنا ہے لیکن ملک میں صرف سیاست کا کھیل جاری ہے۔
پاکستان میں سیاست کو ایک صنعت کہنا بے جا نہ ہوگا، دور حاضر میں لوگ صرف منافع کمانے کیلئے سیاست کے میدان میں آتے ہیں، عوام کے مسائل یا قوم کی خدمت سے ان لوگوں کا کم ہی واسطہ رہتا ہے۔ چند جماعتوں یا لوگوں کے علاوہ دور دور تک متوسط یا غریب لوگوں کا سیاست کے میدان میں آنا ناممکن ہے۔ وہ صرف صرف سیاست میں قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
جس ریاست میں عام اور غریب عوام کی نمائندگی نہ ہو، جہاں لاکھوں بچے خوراک نہ ملنے کی وجہ سے نشوونما ہی نہ پاسکیں اورموت کے منہ میں چلے جائیں، جہاں سیلاب کے متاثرین کے پاس سردی سے بچنے کیلئے کمبل نہ ہوں، جہاں لوگوں کو ادویات نہ مل سکیں، جہاں رفع حاجت کیلئے جگہ میسر نہ ہو اور لوگ کھلے آسمان تلے ٹھٹھرتے رہیں وہاں قوم کے رہبروں پر لازم ہے کہ وہ سر جوڑ کر مسائل کا حل نکالیں لیکن اگر مزید غفلت برتی گئی تو عوام کا یہ ریلہ سبھی کو بہاکر لے جائے گا۔
سیاسی چپقلش کے نتیجے میں کوئی بھی انہونی ہوتی ہے تو سب ہاتھ ملتے رہ جائینگے، نہ ادارے ہونگے نہ اشرافیہ ہوگی، نہ تجارت ہوگی، نہ سماج ہوگا اور حالات اس نہج پر پہنچ جائینگے کہ کسی کے کچھ پلے نہیں بچے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں