کوپ 27 اور ماحول دوست اقدامات

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان معاشی بحران کے ساتھ ساتھ اندرونی سیاسی خلفشار کے طوفان کا سامنا کر رہا ہے تاہم رواں برس مصر کے شہر شرم الشیخ میں کوپ 27 ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس جاری ہے جس میں درجنوں ممالک شریک ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کوپ 27 کے نائب سربراہ ہیں۔

رواں برس پاکستان کو سیلاب سے جس قسم کی تاریخی تباہی کا سامنا کرنا پڑا، اس کے پیشِ نظر پاکستان موسمیاتی نقصان کو کوپ 27 سربراہی اجلاس کے ایجنڈے پر لانے میں کامیاب رہا۔

جیسا کہ تصور کیا جارہا ہے، کوپ 27 کانفرنس میں ترقی یافتہ ممالک شامل ہیں جو ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی بحران کی صورت میں امداد فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کانفرنس میں 2 ہفتوں کے دوران موسمیاتی نقصان، شعبۂ مالیات، موافقت اور تخفیف سمیت دیگر متعدد مسائل پر تبادلۂ خیال ہوا۔

رواں برس کوپ 27 میں پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک اہم مقام فراہم کیا گیا تاکہ سیلاب کے بعد پاکستان اپنی بحالی و تعمیرِ نو کیلئے عالمی برادری سے مسلسل تعاون حاصل کرنے کیلئے اپنا مقدمہ پیش کرسکے۔  موسمیاتی تبدیلیوں سے خوراک، نقل و حمل، تقسیم، تیاری، استعمال اور بعض اوقات ضیاع کا بھی گہرا تعلق ہوتا ہے۔

سورج کی گرمی ہمارے سیارے (زمین) میں قید ہو کر رہ جاتی ہے اور موسمیاتی تبدیلی میں حصہ ڈالتی ہے جسے گرین ہاؤس افیکٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ مویشیوں سے میتھین، کھادوں سے نائٹرس آکسائیڈ اور کھیتوں کیلئے جنگلات کی کٹائی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا ایک چھوٹا حصہ ریفریجریشن اور خوراک کی نقل و حمل، صنعتی عمل جیسے پیکیجنگ کیلئے کاغذ اور ایلومینیم کی تیاری اور کھانے کے ویسٹ کی انتظام کاری سے آتا ہے۔

طویل عرصے سے ترقی یافتہ ممالک نے ایسی پالیسیوں کی مزاحمت کی جو ماحولیاتی مسائل کو حل کرسکتی تھیں جس کی وجہ یہ خوف تھا کہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کی جو بھاری بھرکم پیداوار ان ممالک میں ہوتی ہے، اس پیداوار کی پاداش میں ان ممالک سے معاوضے کا مسلسل مطالبہ کیا جائے گا۔

تاہم پاکستان کے پاس ایک سنہری موقع ہے کہ وہ دولت مند ممالک سے نقصان کے ازالے کا مطالبہ کرے اور عطیہ دہندگان کیلئے موافقت اور تخفیف پر مرکوز امداد کیلئے نئے وعدے کرے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اس موقعے سے کیسے فائدہ اٹھاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ  کیا پاکستانی رہنما مختصر اور طویل مدتی دونوں صورتوں میں بین الاقوامی برادری سے مزید امداد کے لیے  پاکستان کا ایک مربوط اور قائل کردینے والا مقدمہ پیش کر سکیں گے؟ یا کیا ملک کے اندرونی سیاسی منظر نامے کی ٹوٹی پھوٹی نوعیت ریلیف اور بحالی کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب کرے گی؟

شرم الشیخ موسمیاتی کانفرنس کو درپیش چیلنجز سنگین ہیں۔ عالمی کاربن کا اخراج اور جنگلات کی کٹائی، موسمیاتی تبدیلی کے دو اہم محرکات رہے ہیں۔ دنیا کا درجہ حرارت پہلے ہی 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ چکا ہے اور موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ معمول کے مطابق موسم کے تحت یہ چند سالوں میں 1.5 سینٹی گریڈ کو چھونے کا خدشہ ہے اور ضروری ہے کہ معاہدۂ پیرس میں طے شدہ اصولوں کی پاسداری کی جائے، اس سے پہلے کہ زمین انسانوں کی رہائش کیلئے بہت زیادہ گرم ہو کر ناسازگار بن جائے۔

مصرکے شہر شرم الشیخ میں شریک ممالک کو ماحولیاتی سائنس کی طرف سے تجویز کردہ، جمع شدہ کاربن اسٹاک کے 45 فیصد تک تیز اخراج میں کمی کا عہد کرنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرنا ہوگا جبکہ پاکستان میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔

اگرچہ ہم 2022 کے سیلاب کے کل اثرات ہفتوں یا مہینوں تک نہیں جان پائیں گے، لیکن سیلاب میں ضائع کی گئی انسانی جانوں کی قیمت نہیں لگائی جاسکتی۔ اکتوبر کے وسط تک کم و بیش 3 کروڑ 30 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے جو ہر 7 میں سے 1 پاکستانی بنتا ہے۔ تخمینہ لگایا گیا کہ سیلاب کے نتیجے میں 80 لاکھ افراد بے گھر بھی ہوئے۔

سیلاب کی وجہ سے مختلف حادثات کا شکار ہو کر جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد 1 ہزار 700 کے لگ بھگ تھی جن میں سے 33 فیصد بچے تھے اور جیسے ہی پاکستان بحالی کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا اندازہ ہے کہ 90 لاکھ  سے زیادہ لوگ خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

 ملک کے 25 غریب ترین اضلاع میں سے 19 کو آفت زدہ  سمجھا جارہا ہے۔  ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو سیلاب سے پہنچنے والے مالی نقصان کی مالیت 30 ارب ڈالر رہی تاہم پاکستان کی ڈانواں ڈول ہوتی معاشی صورتحال اور بھی سنگین نظر آتی ہے۔

سال 2022 کے آخر تک پاکستان پر 1 ارب ڈالرز کا قرض واجب الادا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے پیش کردہ اضافی معاشی دباؤ نے سنگین خدشات پیدا کیے ہیں کہ پاکستان اس ادائیگی کو پورا نہیں کر سکے گا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اپنے دورے کے دوران، وزیر اعظم شریف نے موسمیاتی انصاف کے ایک حصے کے طور پر قرضوں میں ریلیف کے لیے زبردست دلائل دئیے۔

پیر کے روز وزیر اعظم شہباز شریف اور اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس کی جانب سے پاکستان کیلئے عالمی برادری سے قرضوں میں ریلیف اور موسمیاتی معاوضے کے مطالبے کا اعادہ کیا گیا  کیونکہ ملک پر واجب الادا قرض کی ادائیگی بوجھ بن چکی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی شیری رحمانکا کہنا ہے کہ موسمیاتی انصاف پاکستان کے سفارتی نقطۂ نظر کی بنیاد ہوگاجبکہ ہم قرض میں سہولت کی تشکیل کو ایجنڈے میں شامل کریں گے اور خالصتاً ترقیاتی امداد کا بلینک چیک پاکستان کے کام کا ثابت نہیں ہوگا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستِ پاکستان ہر سطح پر مستقبل کی آفات سے نمٹنے کیلئے ماحولیاتی اصلاحات پر توجہ دے اور کوپ 27 میں ممکنہ عطیہ دہندگان بھی ایسے اشارے تلاش کر رہے ہوں گے کہ پاکستان آئندہ سالوں میں موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے کیا حکمتِ عملی اختیار کرے گا۔

مختلف پاکستانی صوبوں بشمول بلوچستان اور سندھ میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے وسیع پیمانے کو دیکھتے ہوئے عالمی تعاون کے بغیر ہی پائیدار بحالی ممکن نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

حکمراں سیاسی جماعت اس موقعے پر عالمی برادری کودئیے جانے والے پیغام میں کسی غلطی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ مقامی طور پر بھی بہت سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ حکمرانوں کے ماضی کے ناقص فیصلوں نے ہی جنوبی ایشیائی ممالک بالخصوص پاکستان کو اس نہج تک پہنچایا۔

جنگلات کی غیر منظم کٹائی، آب پاشی کے مسائل، سبسڈی اور ناقص شہری منصوبہ بندی سے بھی موسمیاتی مسائل میں اضافہ ہوا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوامی قرض کیلئے شرائط نرم کی جائیں۔

مستقبل میں 2050 تک کم و بیش 125 ٹریلین امریکی ڈالرز کی ضرورت پڑے گی اور پاکستانی پویلین17 نومبر تک ہر روز مختلف موضوعات پر پینل ڈسکشنز کا اہتمام کرے گا جو شرکاء کو موسمیاتی تناؤ سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی جاری کوششوں کے متعلق عالمی برادری کو آگاہ کرے گا۔

بشکریہ:
رضوان اللہ
سکول آف مینجمنٹ اینڈ اکنامکس
بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، چین۔
ای میل: rezwanullah1990@yahoo.com

Related Posts