پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جمعہ کے روز کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، نواز شریف اور عمران خان کی نااہلی سے لے کر جمعہ کے دن کئی پیش رفت سامنے آئی ہیں، گزشتہ روز صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایوان صدر میں ملاقات کی، جس میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
ملاقات کے بعد ایوان صدر سے جاری ہونے والے سرکاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے صدر مملکت کو ملک کے مجموعی معاشی اور مالیاتی منظرنامے سے آگاہ کیا جو کہ تباہ کن سیلاب کے بعد خرابی کی جانب گامزن ہے۔
صدر سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خزانہ نے صدر مملکت کو عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات خاص طور پر ملک کے محروم علاقوں کی غیر مراعات یافتہ آبادی اور سیلاب متاثرین کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
اگرچہ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں صرف ملک کی معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تاہم باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر نے نئے آرمی چیف کی تقرری کے لیے وزیراعظم کے مشورے پر دستخط کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پی ٹی آئی بحیثیت پارٹی یا صدر نئے آرمی چیف کی تقرری کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی۔انہوں نے مبینہ طور پر یہ بھی کہا کہ آرمی چیف کی تقرری وزیر اعظم کا اختیار ہے، اور جب بھی انہیں بھیجی جائے گی تو وہ صرف اس پر دستخط کریں گے۔
وزیر خزانہ اور صدر پاکستان کے درمیان ملاقات ایک خوش آئند پیش رفت ہے جس سے ملک کے سیاسی درجہ حرارت کو ٹھنڈا کرنے میں مدد ملے گی،خاص طور پر وزیر آباد میں سابق وزیراعظم عمران خان پر جلسے کے دوران حملے کے بعدبننے والی صورتحال بہتری کی جانب آنے کی اُمید ہے۔
عمران خان ماضی میں یہ کہتے رہے تھے کہ انہوں نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو مذاکرات کرنے کا اختیار دیا ہے۔ یہ دیکھ کر اچھا محسوس ہوا کہ سیاسی رہنما اپنے مسائل مل بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ مسائل کا اس سے بہتر کوئی حل نہیں ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں