ریاست، حکومت اور سیاسیات

تازہ ترین

تازہ ترین

دنیا کے کسی بھی ملک میں پیدا ہونے والا بچہ اپنے بچپن اور لڑکپن سے گزر کر ہی جوانی اور بڑھاپے تک پہنچتا ہے جسے ارتقائی مراحل کا نام دیا جاسکتا ہے، ایسی ہی صورتحال پاکستان کے ساتھ بھی ہے۔

قیامِ پاکستان کو رواں برس 75برس مکمل ہوئے اور اب پاکستانی قوم کا سیاسی شعور اس قدر بلند ہوچکا ہے کہ اسے ریاست، سیاست اور حکومت کے معاملات سمجھ میں آنے لگے ہیں تاہم سمجھنا الگ بات ہے اور کسی اصطلاح کی درست تعریف جاننا دوسری بات۔

سیاسی اعتبار سے ایک منظم قوم جو آزاد ہو اور اس کے قبضے میں مستقل و معین علاقہ ہو، ریاست کہلاتی ہے تاہم کچھ ریاستیں اپنی اکائیوں کو صوبوں کی بجائے ریاست کہتی ہیں جیسے بھارت یا ریاستہائے متحدہ امریکا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

ایسے ممالک میں ریاست انتظامی تقسیم کا دوسرا درجہ قرار پاتی ہے اور اس قسم کے وفاق میں شامل ریاستوں کو ان کے اندرونی معاملات میں خود مختاری حاصل ہوتی ہے تاہم بیرونی معاملات مثلاً کرنسی اور دفاع کے شعبے وفاق یا مرکز کے تابع ہوتے ہیں۔

حکومت کی بات کیجئے تو حکومت کسی بھی ملک یا ریاست کے اداروں، منصوبوں اور خیالات کو ظاہر کرنے اور اس کے انتظام و انصرام کو چلانے کیلئے تشکیل دی جاتی ہے۔ کسی ریاست کی طاقت اور کمزوری کا اندازہ لگانا ہو تو حکومت کا معائنہ کیاجاتا ہے۔

مختلف قسم کی حکومتیں مختلف طریقوں سے عوام پر احکامات نافذ کرتی ہیں مثلاً شخصی، اشرافی، وحدانی اور وفاقی حکومت کے علاوہ جمہوری اور آمرانہ حکومتیں الگ الگ انداز سے کام کرتی ہیں تاہم حکومت کے بنیادی فرائض و وظائف میں شہریوں کی جان و مال کی حفاظت، دشمنوں کے حملوں اور اندرونی جھگڑوں سے بچانا، عدل و انصاف، قانون سازی، تعلیم و ترقی اور معاشرتی حالت کی اصلاح کیلئے کوشاں رہنا اہم ہوتا ہے۔

رہی سیاسیات کی بات تو یہ وہ علم ہے جسے ریاست اور حکومت دونوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ایک طبقہ کہتا ہے کہ سیاسیاست حکومت کا علم ہے تو دوسرا ریاست کا راگ الاپتا ہے، تاہم حقیقت پسند ماہرین کا فرمانا ہے کہ سیاسیات کا تعلق ریاست اور حکومت دونوں سے ہے۔

پروفیسر گلکرائسٹ، گیٹل، پال جینیٹ، پروفیسر لاسکی اور ای سی اسمتھ کی آراء کے مطابق علمِ سیاسیات ریاست اور حکومت دونوں کی نوعیت سے بحث کرتا ہے۔ ریاستوں کے مابین تعلقات سے متعلق علم ہے اور عمرانی علوم کا وہ حصہ ہے جو ریاست کی بنیادوں اور حکومت کے اصولوں کے بارے میں ہے۔

علمِ سیاسیاست حکومت کی تنظیم اور ارتقاء کا نہ صرف احاطہ کرتا ہے بلکہ اس کے علاوہ معاشرتی علوم کی ایک شاخ کے طور پر بھی کام کرتا ہے جو ریاست کے نظرئیے اور تنظیم کے علاوہ حکومت کی کارکردگی سے متعلق ہے۔

ضروری نہیں ہے کہ سیاسیات کو وہی لوگ سمجھیں جنہیں سیاست میں آنا ہو بلکہ پاکستانی عوام کو اپنے سیاسی شعور میں اضافے کیلئے علمِ سیاسیات، ریاست اور حکومت کی اصطلاحوں کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ دنیا کا کوئی بھی شخص یا سیاستدان لفظوں کے ہیر پھیر سے انہیں بے وقوف نہ بنا سکے۔

 

Related Posts