پاکستان کے معاشی اشاریے بدترین معاشی تصویر پیش کررہے ہیں، کیونکہ گزشتہ سال کے دوران کل قرضوں اور واجبات میں حیران کن طور پر 24 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی برطرفی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال مزید معاشی بد حالی کی طرف بڑھی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ سے 730 ملین ڈالر نکال لیے گئے ہیں جب کہ سرمایہ کاری میں بھی 46 فیصد کمی آئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 27 فیصد کی کمی ہوئی، گزشتہ 7 ماہ میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 2.8 ارب ڈالر کم ہوکر 7.9 ارب ڈالر ہوگئے، کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی 6 فیصد کم ہوکر 340 ملین ڈالر ہوگئے۔ جب کہ روپے کی گرتی ہوئی قدر اس اضافے کا ایک بڑا عنصر تھی، قرض کاحجم 62.5 ٹریلین روپے کسی بھی اقدام سے غیر مستحکم ہے۔
قرض کی ادائیگی کی لاگت اب سالانہ 5 ٹریلین روپے کے قریب پہنچ رہی ہے، اور ہمارے وزیر خزانہ ہاتھ میں کٹورے لیے دنیا بھر میں گھوم رہے ہیں، ملک کو رواں دواں رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
گزشتہ سات ماہ کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 40.3 کمی ہوئی جو 223.2 روپے تک پہنچ گئی۔
موجودہ حکومت کے گزشتہ سات ماہ کے دور میں مہنگائی بھی دوگنی ہو گئی ہے، مہنگائی کی شرح 13.4 سے بڑھ کر 26.6 فیصد ہو گئی ہے۔ پیٹرول 35 روپے 225 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 85 روپے مہنگا ہو کر 235 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
اپریل 2022 میں برآمدات 2.7 بلین ڈالر تھیں، جب کہ اکتوبر 2022 میں برآمدات سکڑ کر 2.3 بلین ڈالر رہ گئیں، اور ٹیکسٹائل کی برآمدات اپریل 2022 میں 1.76 بلین ڈالر تھیں، جو اکتوبر 2022 میں کم ہو کر 1.42 بلین ڈالر رہ گئیں۔
لیکن اس کا قصور صرف روپے کی قدر میں کمی نہیں ہے۔ ٹیکس کے اہداف کو پورا کرنے میں مسلسل ناکامی، سود کی بلند شرح، قرضوں کی بدانتظامی اور خسارے میں جانے والے سرکاری ادارے ملک کو دیوالیہ کر رہے ہیں۔
اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اقتدار میں ہے، وہ ان مسائل کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہتے ہیں، پاکستان کو معیشت کی بہتری کے لیے مضبوط اور مستقل پالیسیوں کی ضرورت ہے، معاشی پالیسیاں جاری رہنی چاہئیں خواہ کوئی بھی پارٹی برسراقتدار آئے کیوں کہ ڈی ٹریک معیشت کو بہتر کرنے اور بھیک مانگنے کے پیالے کو توڑنے کا یہی واحد راستہ بچا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں