اونٹ سے احتیاط کی اپیل

تازہ ترین

تازہ ترین

ہمارے والد اور دادا جید عالم دین تھے۔ تائے، ماموں حتی کہ سسر بھی عالم دین۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ جتنے علماء آٹھ دس اضلاع میں ہوتے ہیں اس سے دس گنا زیادہ ہمارے صرف خاندان میں ہی میسر ہیں۔ نسلوں سے علوم اسلامیہ سے اس نسبت کے ہمیں دو بہت زبردست فائدے حاصل ہوئے ہیں۔

ایک یہ کہ یہ ہماری گٹھی میں شامل ہے کہ ہم کوئی مقدس مخلوق نہیں ہیں۔ دوسرا یہ کہ اکابر پرستی کو ہمارے خاندن میں ایک مذہبی جرم کا درجہ حاصل ہے۔ پھر اللہ سبحانہ و تعالی کا ایک بڑا فضل و احسان یہ بھی ہے کہ ہم چندہ خوری کی صنعت سے وابستگی نہیں رکھتے بلکہ ملازمت کرکے اپنا رزق کماتے ہیں سو علماء کے فضائل بیان کرنے ضرورت بھی کبھی پیش نہ آئی۔ اس پورے پس منظر کی ہی برکت ہے کہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کی اس ٹویٹ کا ہم پر رتی برابر اثر نہ ہوا کہ نامزد آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا حافظ قرآن ہونا کوئی ایسا معاملہ ہے جس سے خوش فہمی کا شکار ہونا چاہئے۔ ہم نے بڑے بڑے حافظ اور حاجی بھگت رکھے ہیں سو اس فریب میں نہیں آتے۔

جنرل عاصم کی تقرری تراویح کے امام یا حفظ کی کلاس کے استاد کے طور پر نہیں بلکہ اگلے آرمی چیف کے طور پر ہوئی ہے۔ سو ہم نے ان کے حفظ کو نہیں دیکھنا بلکہ آنے والے وقت میں ان کے اقدامات ہمارے پیش نظر رہنے چاہئیں۔ اقدامات کی نسبت سے ہماری پہلی آرزو تو یہی ہے کہ جنرل عاصم اس سابق آرمی چیف جیسے نہ نکلیں جس کی شہادت پر مفتی تقی صاحب ایک طویل تر تحریری مدح سرائی فرما چکے ہیں۔

جی ہاں! ہمارا اشارہ انہی جنرل ضیاء الحق کی طرف ہے جن کی عقیدت کا غیر سیاسی علماء اس حد تک شکار رہے کہ ضیاء کی تقاریر میں انشاء اللہ، ماشاءاللہ اور سبحان اللہ جیسے الفاظ بھی باقاعدہ شمار کرکے بتایا کرتے تھے کہ جو شخص اتنی اتنی مرتبہ یہ مبارک کلمے اپنی تقریر میں استعمال کرتا ہو اس کے عظیم ہونے میں کیا شک ہے؟ بخدا اس معیار پر دیکھیں تو بلوچستان کے سارے سمگلر جنتی ہیں کیونکہ ہمہ وقت تسبیح پھیرتے نظر آتے ہیں اور سود پر رقم مانگنے والے سے کہتے ہیں

“جماعت کھڑی ہونے والی ہے، پہلے نماز پڑھ لیتے ہیں پھر رقم دے دیتا ہوں۔ مگر سود میں رعایت بالکل نہ دوں گا۔ رعایت درکار ہے تو حاجی فلاں کے پاس چلے جاؤ”

جنرل عاصم منیر کے حوالے سے دوسری توقع ہم وہی رکھتے ہیں جو ہم جنرل باجوہ اور ان کے پیش رو سے بھی رکھتے تھے مگر پوری نہ ہوئی تھی۔ یعنی سیاست میں مداخلت نہ کرنا۔ اگرچہ نون لیگ کا یہ موقف بظاہر بڑا اصولی لگتا ہے کہ سینئر موسٹ کو ترقی دی گئی۔ مگر باشعور لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جنرل عاصم منیر ترجیح اس لئے بنے کہ وہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے عتاب کا شکار ہوئے تھے اور اس بات پر ہوئے تھے خان صاحب کے گھر کی “باپردہ کرپشن” کے ثبوت انہیں پیش کردیئے تھے۔ سو نون لیگ کو کسی نہ کسی درجے میں یہ امید ضرور ہے کہ جنرل عاصم خان صاحب کا کچومر نکال کر ثواب دارین ضرور حاصل کریں گے۔

سوال یہ ہے کہ جب جنرل عاصم منیر نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی خان صاحب کو ان کے گھر کے احوال سے آگاہ کیا تھا تو کیا وہ کوئی سیاسی مداخلت تھی ؟ قطعا نہ تھی۔ کیونکہ ڈی جی آئی ایس آئی وزیر اعظم کو جوابدہ ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داریوں میں یہ شامل ہے کہ ریاست اور حکومت کے خلاف جانے والی پس پردہ سرگرمیوں کی خبر وزیر اعظم کو دے۔ سو جنرل عاصم نے تب اپنی ڈیوٹی ہی نبھائی تھی۔ اب آرمی چیف بننے کے بعد اگر وہ اسی کیس کو پھر سے اٹھاتے ہیں تو یہ سیاست میں مداخلت ہوگی۔

کرپشن کے خلاف کام کرنا حکومت وقت اور نیب کی ذمہ داری ہے۔ آرمی چیف نہ تو حکومت کا سرپرست ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کو نیک چال چلن کی نصیحتیں کرے۔ نہ محتسب ہے کہ اپوزیشن کا احتساب کرنے کے لئے اقامے اور پانامے جیسے ڈرامے کرے اور نہ ہی وزیر خزانہ ہے کہ سیمینار میں کھڑے ہوکر یہ بھاشن دے کہ معیشت اگر بری نہیں تو اچھی بھی نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان لانگ مارچ کریں، دھرنے دیں، جلسے کریں، جلوس نکالیں یا جو بھی درست و غلط سیاسی سرگرمی کریں اس سے نمٹنا حکومت وقت کا کام ہے، فوج کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ہاں اگر اب بھی خان صاحب سابقہ چلن پر چلتے ہوئے فوج کے معاملے میں کوئی ایسی بات کریں جو آئین و قانون کے خلاف ہو اور اس درجے کی ہو جہاں فوج کا ایکشن بنتا ہو تو اس ایکشن کے لئے آئین کی دفعات موجود ہیں۔ ان کے مطابق ہی چلا جائے۔

حالیہ عرصے میں پٹوار خانے سے یہ آوازیں بہت آئیں کہ اپنا گند خود صاف کرو۔ جنرل عاصم منیر سے بھی اگر یہ بات کی جائے تو ان کا جواب صاف اور دو ٹوک ہونا چاہئے کہ اول تو یہ کہ جس نے گند پھیلایا تھا وہ اب نہیں رہا۔ اب آپ جانیں اور عمران خان جانے۔ اور اگر آپ نے پھر بھی گند ہم سے ہی صاف کروانا ہے تو پھر آئین کی دفعہ 245 تحت اختیار دیدیجئے۔ گویا گند صاف کرنے کے لئے کسی پس پردہ “ویگو ڈاکٹرائن” کے بجائے سیدھی سیدھی آئینی راہ اختیار کی جائے۔

شہباز حکومت پچھلے آٹھ ماہ سے عمران خان کے خلاف کوئی ایکشن نہ لینے کی وجہ یہ بتاتی آئی ہے کہ خان کو اب بھی اندر سے سپورٹ حاصل ہے۔ یہ فقط ایک بہانہ تھا یا حقیقت اس کا پول اب کھل جائے گا۔ اگر اب بھی ایکشن نہ لیا گیا تو اس کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہ ہوگا کہ موجودہ حکومت ایک بزدل اور نکمی حکومت ہے۔ وہ ایک ایسے شخص سے نمٹنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی جس نے آئین شکنی اور ملک دشمنی کی ہر حد پار کر رکھی ہے۔ اب یہ بہانہ نہیں چلے گا کہ خان کو اندر سے سپورٹ حاصل ہے۔ کیونکہ جنرل عاصم منیر29 نومبر کو کمان سنبھالنے کے چند روز کے اندر اندر فوج میں بڑی سطح کی تبدیلیاں کریں گے جو حسب روایت ہوں گی۔ نیا سربراہ ہمیشہ اپنی ٹیم ترتیب دیتا ہے۔ یہ تبدیلیاں ہونے کے بعد فوج نئے فرمانِ امروز کے تحت چلنا شروع ہوجائے گی۔

اگرچہ جانے والے آرمی چیف کے بیان پر یقین کرنا ممکن نہیں ہوتا مگر چونکہ ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ فوج اب سیاست میں مداخلت کے گناہ سے توبہ تائب ہوچکی ہے سو یہی بات فوج کا چارج لینے کے بعد جنرل عاصم سے بھی سننے کا انتظار ہے گا۔ اگر وہ بھی یہی کہہ دیتے ہیں تو پھر وزیر اعظم شہباز شریف کے لئے ضروری ہوگا کہ پرویز رشید، عابد شیر علی اور طلال چوہدری جیسوں کی مستقل زبان بندی کرادیں۔ کیونکہ یہی تینوں ہیں جو شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے کے چکر میں ماضی میں حکومت کے لئے مسائل پیدا کرتے رہے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ اگرچہ ڈان لیکس پر فوج کا ردعمل غیر ضروری طور پر سخت تھا مگر یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس لیک میں نون لیگی حکومت کی بدنیتی شامل تھی۔ اگر بدنیتی نہ تھی تو خبر لیک کرنے کی بجائے باقاعدہ وزارت اطلاعات سے کیوں جاری نہ کروائی گئی ؟ سو ہم اچھی طرح جانتے ہیں نواز شریف بھی سٹینڈ ہمیشہ اپنی ذات کے لئے ہی لیتے رہے ہیں۔ پرویز رشید جیسے پیادے تو وہ شوق سے قربان کرتے آئے ہیں لہٰذا بہتر ہے کہ وہ پنگے بازی ہی نہ کی جائے جس کے نتیجے میں پیادے قربان کرنے پڑیں۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ایک بار قربانی چل پڑتی ہے تو تین دن تو بکرے دنبے ہی قربان ہوتے ہیں لیکن چوتھے دن اونٹ کا نمبر بھی آجاتا ہے۔ سو اونٹ سے احتیاط کی اپیل ہے !

Related Posts