سیلاب متاثرین اور موسم سرما

تازہ ترین

تازہ ترین

موسم سرما کا آغاز ہوچکا ہے اور سیلاب متاثرین کی بحالی ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے، یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ سردی کا درجہ حرارت خیمہ بستیوں میں رہنے والوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن جائے گا۔ لہٰذا، موسم سرما کے سامان کے عطیات کی اپیلوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

وسط جون میں آنے والے سیلاب اور شدید بارشوں کے باعث پاکستان میں تقریباً 33 ملین افراد بے گھر ہوئے ہیں، جس میں سندھ کے بعد بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔

بلوچستان اور سندھ کے مختلف اضلاع میں سیلاب متاثرین اب بھی کھلے میدانوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، جیسے جیسے پارہ گرنا شروع ہو رہا ہے، سیلاب متاثرین کی انفرادی التجائیں تیزی سے ہر کسی کو مدد کے لئے پکار رہی ہیں۔

اگرچہ ابھی تک خیموں میں مقیم سیلاب زدہ افراد کی تعداد کو شمار کرنے کے لیے کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن سندھ اور بلوچستان میں امدادی سرگرمیاں کرنے والی این جی اوز کے اندازے کے مطابق یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔

سیلاب زدہ علاقوں میں صحت کی دیکھ بھال کے مناسب نظام بشمول اینٹی بائیوٹکس اور جان بچانے والی ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے زیادہ تر بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ ساتھ خون کی کمی میں مبتلا خواتین کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔

سیلاب متاثرین کی اکثریت آلودہ پانی کے استعمال اور مناسب خوراک کی کمی کی وجہ سے پہلے ہی متعدد بیماریوں میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے ان کی قوت مدافعت کمزور پڑ گئی ہے اور وہ موسم سرما سے متعلق بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔

حکومت سردی کے موسم میں سیلاب زدگان کو تحفظ فراہم کرنے کے دعوے کرتی رہی ہے۔اس تناظر میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے یقین دلایا ہے کہ حکومت سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد اور معاوضے کی فراہمی کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود ہم نے سیلاب سے متاثرہ افراد کو نقد امداد فراہم کی ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں کے کسانوں کو کسان پیکج بھی دیا گیا ہے۔

پاکستان میں سیلاب کو تقریباً پانچ ماہ گزر چکے ہیں لیکن اب بھی عوام کی اکثریت کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہے جو کہ موجودہ حکومت کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن سردی کا موسم شروع ہونے کے بعد، حکومت کو متحرک ہونا ہوگا اور انسانی بحران سے بچنے کے لیے عملی اقدامات اُٹھانا ہوں گے۔

Related Posts