ہیلی کاپٹر کہاں سے لائیں گے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

سیاست کا یہ قاعدہ ہے کہ احتجاجی جماعت سے حکومت دو صورتوں میں بات کرتی ہے۔ پہلی یہ کہ احتجاجی جماعت دن بدن عوامی مقبولیت حاصل کر رہی ہو۔ اور دوسری یہ کہ احتجاجی جماعت بند گلی میں پھنس جائے۔

پہلی صورت میں حکومت بات چیت پر اس لئے آمادہ ہوتی ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے عوامی حمایت ہی اصل اثاثہ ہوتی ہے۔ نارمل سیاسی صورتحال میں اقتدار میں بیٹھی جماعت اقتدار تک اسی لئے پہنچی ہوتی ہے کہ وہ الیکشن میں سب سے مقبول جماعت رہی ہوتی ہے۔ چنانچہ اقتدار میں آنے کے بعد جب اسے اپوزیشن کے کسی معقول اور مقبول بیانیے کا سامنا کرنا پڑ جائے اور اس بیانیے کو وقت کے ساتھ ساتھ عوامی تائید بھی حاصل ہوتی جا رہی ہو تو یہ حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔

خطرہ اس بات کا کہ عوامی حمایت کا اثاثہ دوسری طرف منتقل ہو رہا ہے۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ عوامی حمایت سے صرف اقتدار میں نہیں آیا جاتا بلکہ اقتدار کو بچائے رکھنے کے لئے بھی اس حمایت کا بدستور موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔

اس کی بہترین مثال نواز شریف کا تیسرا دور اقتدار ہے۔ وہ عوامی حمایت سے اقتدار میں آئے تو جلد عمران خان اپنا پہلا لانگ مارچ لے کر اسلام آباد پہنچ گئے۔ خان صاحب اور ان کے امپائرز کا خیال تھا کہ وہ بڑی عوامی طاقت لا کر حکومت کو چلتا کردیں گے مگر نواز شریف کو چونکہ عوامی حمایت بدستور حاصل رہی سو یہ  اسکیم بری طرح فیل ہوگئی۔

سوال یہ ہے کہ عوامی حمایت کہتے کسے ہیں؟ اس کا جواب بہت ہی سادہ ہے۔ کوئی بھی حکومت یہ دیکھتی ہے کہ احتجاجی جماعت کے صرف کارکنان سرگرم ہیں یا انہیں عام آدمی کی حمایت بھی حاصل ہے؟ اگر جلسوں اور دھرنوں میں صرف کارکنان نظر آئیں تو یہ حکومت کے لئے اچھی خبر ہوتی ہے۔ بری خبر یہی ہوسکتی ہے کہ عام شہری بھی احتجاج میں شریک ہوں۔ خود میڈیا بھی سب سے پہلے یہی بات نوٹ کرتا ہے۔ سو سیاسی عمل میں فیصلہ کن عنصر عام آدمی ہی ہوتا ہے۔

انتخابات میں بھی کبھی ایک جماعت تو کبھی دوسری جماعت اسی لئے جیتتی ہے کہ فتح و شکست میں مرکزی کردار اس عام ووٹر کا ہوتا ہے جو کسی پارٹی سے وابستگی نہیں رکھتا۔ وہ الیکشن والے سال فیصلہ کرتا ہے کہ حکومت کی کارکردگی ایسی ہے کہ اسے دوبارہ ووٹ دیا جائے یا نہیں؟ یوں بری کارکردگی کی صورت میں عام ووٹرز دوسری جانب رخ کرکے حکمران جماعت کو اگلی ٹرم سے محروم کر دیتے ہیں۔

نواز شریف کے تیسرے دور میں اسٹیبلیشمنٹ نے جب یہ دیکھا کہ عوامی حمایت تو بدستور نواز شریف کے پاس ہے اور اس حمایت کو چھیننا ممکن نہیں تو پھر عوامی طاقت کی بجائے چارسو بیسی کی راہ اختیار کرکے نواز شریف کو نکالا گیا۔ اگر عمران خان اس لانگ مارچ میں حکومت سے عوامی حمایت چھیننے میں کامیاب ہوجاتے تو کوئی شک نہیں کہ نواز حکومت ان سے فوراً بات چیت پر آمادہ ہوجاتی کیونکہ کوئی بھی حکومت عوامی حمایت کا اثاثہ کھونا نہیں چاہتی۔

احتجاجی جماعت کی احتجاجی سرگرمی ناکام ہونے کی صورت حکمران جماعت بات چیت پر اس لئے آمادہ ہوتی ہے کہ اسے صاف نظر آجاتا ہے کہ اپوزیشن اب پچھتاوے کی بند گلی میں ہے۔ اب اس کی اشد خواہش یہ ہوگی کہ کوئی ایسی صورت بن جائے جس کا سہارا لے کر وہ اس بند گلی سے باعزت گھروں کو لوٹ جائے۔ سو یہ ایک سیاسی کلچر ہے کہ یہ موقع فراہم کرنے میں حکومت بخل سے کام نہیں لیتی۔

حکومت کی بھی اوّلین خواہش یہی ہوتی ہے کہ احتجاجی چخ چخ سے جان چھوٹے چنانچہ وہ احتجاجی جماعت کو مذاکرات کی پیشکش کر دیتی ہے۔ اس پیشکش کا مطلب احتجاجی کارکن یہی لیتا ہے کہ حکومت نے گھٹنے ٹیک دیئے لیکن اصل حقیقت احتجاجی لیڈر جانتا ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ اسے باعزت واپسی کی راہ فراہم کی جا رہی ہے۔

یوں جب بند کمروں میں مذاکرات ہوتے ہیں تو عام سیاسی ورکر یہ سوچتا ہے کہ اندر کوئی بہت گھمسان کا رن چل رہا ہوگا مگر درحقیقت اندر بات یہ چل رہی ہوتی ہے کہ حکومتی وفد اپوزیشن جماعت کے وفد کو ہنسی مذاق میں طعنے دے کر ایسا پیکج آفر کر دیتا ہے جس سے اپوزیشن لیڈر اپنے ورکرز کو مطمئن کرکے گھر جانے کا کہہ سکے۔ حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ کم سے کم آفر کیا جائے اور اپوزیشن وفد اس پر یہی مؤقف اختیار کرتا ہے کہ اس سے تو ہمارا ورکر مطمئن نہیں ہوگا، وہ الٹا ہمیں طعنے دے گا۔ لہٰذا کم از کم کچھ ایسا تو دیں جس سے ورکر مطمئن ہوسکے۔ یوں بات چیت کسی نتیجے پر پہنچ جاتی ہے۔ اور پھر دونوں وفد سنجیدہ سی شکلیں لے کر میڈیا کے سامنے آکر معاہدے کا اعلان کر دیتے ہیں۔ حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ اپوزیشن رہنما نے احتجاج ختم کرنے کے اعلان سے قبل ورکرز کے سامنے ڈینگیں ہی مارنی ہیں تاکہ ورکرز کو مطمئن کرکے گھروں کو بھیج سکے۔ سو حکومت ان ڈینگوں کا برا نہیں مناتی اور یوں احتجاج ختم ہوجاتا ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ماڈل ٹاؤن کی لاشوں پر سیاست کرنے والے طاہر القادری کو بھی دو بار یہ فیس سیونگ دی گئی۔ اور موصوف اب ان لاشوں کو ایسا بھول گئے ہیں کہ پورے عمران دور حکومت میں ایک بار بھی ان لاشوں کو انصاف دینے کی بات نہ کی۔

اگر عمران خان کسی نارمل سیاسی لیڈر جیسا رویہ ہی رکھتے تو کوئی شک نہیں کہ حکومت انہیں بھی سیاسی روایات کے مطابق فیس سیونگ دیتی۔ مگر خان صاحب تو ہمیشہ کسی اور ہی دنیا میں جیتے ہیں۔ ان کے لانگ مارچ میں دس ہزار لوگ بھی نہیں ہوتے اور ان سے خطاب کرتے ہوئے بھی پوری ڈھٹائی سے دعویٰ فرما رہے ہوتے ہیں کہ یہ ہجوم 10 لاکھ کا ہے۔ جلسے میں آدھی کرسیاں خالی پڑی ہوتی ہیں اور یہ اسی جلسے کے بعد ٹوئٹر پر اظہار تشکر کرتے ہوئے فرما رہے ہوتے ہیں کہ آج کا جلسہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ تھا۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ان کے مطابق ان کا ہر جلسہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ رہا ہے۔ اوپر سے لب و لہجہ بھی وہ کہ شرافت پناہ کی تلاش میں دوڑ جائے۔ اگر یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے میں ایک بار بھی کامیاب ہوئے ہوتے تو اتنی سیاسی خواری کیوں اٹھاتے؟ پچھلے 8 ماہ کے دوران کوئی ایک بھی سیاسی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام کیوں ہوتے؟ نوبت یہ کیوں آتی کہ بالآخر خود انہی کو اپنے 3 بڑے بیانیوں سے دستبرداری کا اعلان کرنا پڑتا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومت سختی سے اس اصول پر کیوں کاربند ہوتی کہ انہیں کوئی فیس سیونگ نہیں دینی؟ اس سے بڑی سیاسی ہزیمت اور کیا ہوگی کہ 26 نومبر کو ورکرز کو بلایا اس دعوے کے ساتھ تھا کہ وفاقی حکومت کو ڈھیر کرنا ہے اور اعلان یہ کردیا کہ 27 کلومیٹر پر قائم وفاقی حکومت کو نہیں اپنی ہی صوبائی حکومتوں کو ڈھیر کرنا ہے؟

ایسی حکومتوں کو ڈھیر ہی کر دینا چاہئے جن میں بندہ ایس ایچ او وزیر آباد بھی نہ بدل سکے مگر مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ اس بات کا امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے کہ وہ صوبائی اسمبلیوں سے استعفے یا انہیں تحلیل کرنے کی آپشنز کی جانب جائیں گے۔ اس کی دو ٹھوس وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ پچھلے آٹھ ماہ سے وہ ان دونوں حکومتوں کی حدود کو “پناہ گاہ” کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ انہیں گرفتاری کا اتنا خوف ہے کہ اب بنی گالہ کی بجائے پشاور یا لاہور میں رہتے ہیں۔

صوبائی اسمبلیوں سے استعفے یا انہیں تحلیل نہ کرنے کی دوسری وجہ نہایت دلچسپ ہے اور یہ وجہ ہمیں نہیں بلکہ ہمارے ایک سوشل میڈیا فالوور حافظ احمد کو سوجھی ہے، جنہوں نے اپنے کمنٹ میں سوال اٹھایا ہے کہ اگر صوبائی حکومتیں ختم کردیں تو پھر خان صاحب ہیلی کاپٹر کدھر سے لائیں گے؟ حافظ احمد کا یہ سوال بہت ہی اہم ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ انہیں دوستوں کے نجی یا چارٹرڈ طیاروں میں گھومنے کی ہی نہیں بلکہ صوبائی حکومت کے سرکاری ہیلی کاپٹر کی بھی لت لگ چکی ہے۔ وہ ان کے بغیر سفر ہی نہیں کرتے۔ سو ہم بھی یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ جب تک متبادل ہیلی کاپٹر اور پناہ گاہ کا بندوبست نہ ہوجائے، صوبائی اسمبلیوں کو کوئی خطرہ نہیں۔

Related Posts