اسلام آباد: حکومت نے وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا استعفیٰ مسترد کردیا۔ وزیر اعظم نے وفاقی کابینہ رکن اعظم نذیر تارڑ کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اکتوبر کے دوران اعظم نذیر تارڑ نے ذاتی وجوہات کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ مستعفی ہونے کا فیصلہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں نعرے بازی کے بعد سامنے آیا۔
وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا
وفاقی وزیرِ قانون نے اپنا استعفیٰ صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو 25 اکتوبر کے روز ارسال کیا اور 35 روز بعد استعفیٰ مسترد کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے مستعفی ہونے سے متعلق ٹوئٹر پیغام بھی جاری کیا تھا۔
عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکاء کے ایک مختصر گروہ کی طرف سے ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی پر دکھ اور افسوس ہوا ہے۔ جذباتی نعرہ بازی کرنے والے حکومتی اقدامات اور اداروں کی کوششوں اور قربانیوں کو بھی بھول گئے۔ ہم سب ایک مضبوط پاکستان کے خواہاں ہیں
— Azam Nazeer Tarar (@AzamNazeerTarar) October 24, 2022
وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا 24 اکتوبر کو اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکاء کے ایک مختصر گروہ کی طرف سے ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی پر دکھ اور افسوس ہوا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جذباتی نعرے بازی کرنے والے حکومتی اقدامات اور اداروں کی کوششوں اور قربانیوں کو بھی بھول گئے۔ ہم سب ایک مضبوط پاکستان کے خواہاں ہیں۔وزیر اعظم نے وفاقی وزیرِ قانون کا استعفیٰ مسترد کردیا۔
اپنے استعفے میں اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر قیادت بطور وزیرِ قانون خدمات انجام دینے کا موقع ملا تاہم ذاتی وجوہات کے باعث فرائض کی انجام دہی جاری نہیں رکھ سکوں گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








