دُنیا بھر میں کیمیائی ہتھیاروں کے شکار افراد کی یاد میں عالمی دن آج منایا جارہاہے

تازہ ترین

تازہ ترین

نیویارک: دنیا بھر میں کیمیائی ہتھیاروں کے نقصانات پر آگہی اور کیمیائی جنگوں کا شکار افراد کی یاد میں عالمی دن آج منایا جارہا ہے جس کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کی ترویج روکنا ہے۔

تاریخِ انسانی میں پہلی بار کیمیائی ہتھیار پہلی جنگِ عظیم (1914 سے 1918) کے دوران استعمال کیے گئے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کثیر ملکی جنگ میں 1 کروڑ 70 لاکھ افراد ہلاک جبکہ 2 کروڑ زخمی ہوئے تاہم تباہی و بربادی یہاں تھمی نہیں بلکہ جاری رہی۔

یہ بھی پڑھیں:

پاکستان سے دہشتگردی کیخلاف تعاون کی امیدہے۔امریکا

پھر جنگِ عظیم دوم (1939 سے 1945)میں بھی کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ اسی دوران امریکا نے جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرادئیے جو کیمیائی ہتھیاروں کا بد ترین استعمال قرار دیا جاسکتا ہے جسے ہر سال یاد کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل کے کیمیائی ہتھیار گزشتہ صدی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ مہلک اور تباہ کن ہیں جو ایک ہی وقت میں متعدد شہروں کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ ہر سال 30 نومبر کو کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف عالمی دن منانے کا درس دیتا ہے۔

عالمی ادارے اقوامِ متحدہ کے زیر اہتمام کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف آگہی کا عالمی دن ہر سال منایاجاتا ہے جس کا مقصد بنی نوع انسان کو کیمیائی ہتھیاروں اور جنگ و جدل کے خلاف کمربستہ کرنا اور عوام الناس میں امن و آشتی کیلئے آگہی کو فروغ دینا ہے۔

سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے باعث دنیا بھر میں بے شمار افراد زخمی اور جاں بحق ہوئے۔ عالمی دن منانے کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں سے پاک دنیا کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کرنا ہے۔

Related Posts