پاکستان کے لیے حالات نازک مراحل میں داخل ہوچکے ہیں، ایک جانب ملک کو تحریک طالبان کے خطرے کا سامنا ہے تو دوسری طرف اسلامک اسٹیٹ خراسان گروپ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پہلے ہی جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے اور کوئٹہ اور کے پی میں دہشت گردی کی کارروائیاں کی ہیں، جبکہ حال ہی میں، آئی ایس کے پی نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
حنا ربانی کھر کی جانب سے کیا گیا کابل کا حالیہ دورہ جس میں پاک افغان تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کی گئی، پاکستان کی جانب سے مثبت کوششوں کے باوجود ٹی ٹی پی کی طرف سے امن معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے ساتھ پاکستانی مفادات پر مسلسل حملوں کا سلسلہ جاری ہے،جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
اسلامک اسٹیٹ خراسان گروپ کے حوالے سے پاکستان کی حکومت نے، ستمبر 2021 میں، افغانستان کو ثبوت فراہم کیے تھے،جس میں اس گروپ کی کارروائیوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا تھا، پاکستان نے ذمہ داری کے ساتھ دنیا کو بھارتی قابض افواج کی طرف سے کیے گئے جنگی جرائم کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ مگر اس کے باوجود انڈین فنڈ سے چلنے والے ISKP کے تربیتی کیمپوں پر کوئی بامعنی کریک ڈاؤن نہیں ہوا ہے۔
نوشہرہ میں ٹی ٹی پی کے حالیہ حملے، 13 نومبر کو چمن بارڈر پر خونریزی، اور کیچ، پنجگور اور مند (بلوچستان) میں بھارتی امداد سے بی ایل اے، بی ایل ایف کے حملے پاکستان کے لیے خطرہ ہیں۔ بھارت کا بیرونی انٹیلی جنس ونگ R&AW TTP اور ISKP کو مکمل طور پر تربیت، فنڈنگ اور مسلح کر رہا ہے جبکہ افغان طالبان خوشی سے TTP، ISKP اور AQIS کو پناہ دے رہے ہیں۔
یہ تمام حالیہ حملے افغانستان میں بھارتی پراکسی ملوث ہونے کی علامت ہیں۔ افغانستان کے طالبان اپنی سرزمین کو دہشت گردی سے پاک رکھنے کے اپنے وعدے پر پورا نہیں اتر رہے ہیں۔ اس کے برعکس، شدت پسندوں کے حملوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان کے طالبان کی جانب سے تحقیقات اور خدشات کو دور کرنے کے لئے عمل در آمد کو تیز کرنا ہوگا، TTP اور ISKP کے تمام دہشت گردوں کو فوری انصاف کے لیے پاکستان کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ اب ذمہ داری افغانستان کے طالبان پر ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں