ملک میں نئے کووڈ ویرینٹ کی موجودگی کی متعدد رپورٹس موصول ہوئی ہیں، تاہم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے تمام رپورٹس کی تردید کی ہے اور انہیں گمراہ کن قرار دیا ہے۔
این آئی ایچ کے ایک عہدے دار کے مطابق کوویڈ کی نئی قسم کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی کیس سامنے آتا ہے تو نئے ویرینٹ سے نمٹنے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
چین میں لاک ڈاؤن اٹھانے اور سفر کی اجازت نے پاکستان میں کووِڈ کی نئی قسم کے داخل ہونے کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔
رپورٹس بتاتی ہیں کہ چین میں پھیلنے والا کورونا وائرس انتہائی متعدی Omicron ویرینٹ کا ذیلی قسم ہے: BF.7 یا BA.5.2.1.7۔
دریں اثنا کراچی کے چھ شہریوں کے کورونا کے XBB اور کی مختلف اقسام سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ اطلاع آغا خان اسپتال کی جانب سے فراہم کی گئی تھی، جو کراچی شہر کا بین الاقوامی سطح کا بہترین نجی ادارہ صحت ہے۔
محکمہ صحت نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تصدیق شدہ کیسز ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، شادمان ہومز اور طارق روڈ کے رہائشیوں میں پائے گئے۔
کووڈ کے نئے ویرینٹ سے لاحق خطرے کے تناظر میں، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے پیر کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کو تعلیمی اداروں، سماجی اجتماعات کے لیے احتیاطی تدابیر جاری کرنے کی ہدایت کی۔ بریفنگ کے دوران حکام نے بتایا کہ متعلقہ مجوزہ اقدامات میں طورخم بارڈر پر پیدل چلنے والوں کی روزانہ ویکسینیشن اور اسکریننگ ٹیسٹ شامل ہے۔
یہ فیصلے ایک جائزہ اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کی، جس میں این آئی ایچ اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی ایک ٹیم کے ساتھ کوویڈ کی نئی شکل سے لاحق خطرے کی صورتحال اور ہوائی اڈوں پر نگرانی کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔
اگر کورونا وائرس کے اس ابھرتے ہوئے نئے ویرینٹ ایف بی سیون کے خطرے کے تناظر میں بروقت مضبوط اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال رفتہ رفتہ خطرناک ہو سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں