یہ سرکس کب ختم ہوگا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ایک عجیب ہی حکومت مسلط ہوگئی ہے۔ اس میں اور پی ٹی آئی کی حکومت میں اگر کوئی فرق ہے تو بس یہ کہ پی ٹی آئی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے اس شخص کی طرح تھی جو ڈرائیونگ نہ جاننے کے باوجود گاڑی چلانے کی کوشش کررہی تھی۔

ظاہر ہے گاڑی کے ساتھ پھر ہوا بھی وہی جو ایسی صورت میں ہوسکتا تھا۔ جبکہ پی ڈی ایم حکومت کی حالت یہ ہے کہ گاڑی چلانی نہیں آتی سو گاڑی چلانے کی کوشش بھی نہیں کر رہی۔

یہاں تک تو بات چلو ٹھیک ہے مگر حد یہ ہے کہ یہ ڈرائیونگ سیٹ چھوڑنے پر بھی آمادہ نہیں اور وقت ہے کہ تیزی سے ضائع ہوتا جا رہا ہے۔ آپ وزیر اعظم شہباز شریف کی باڈی لینگویج ہی دیکھ لیجئے۔ چہرہ زرد، آنکھوں میں الجھن اور کاندھے جھکے ہوئے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی نے زبردستی کرسی پر بٹھا دیا ہو۔ حالانکہ عمران خان کے بعد یہ واحد ہستی ہیں جو 25 سال مسلسل وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھتی رہی۔ اوران کا وزیر اعظم بننے کا عزم اتنا پختہ تھا کہ اسی قوتِ ارادی کے دم پر کینسر کو بھی شکست دیدی ہے۔

آپ ذرا یوٹیوب سے نکال کر اس شہباز شریف کے خطبات سن لیجئے جو وزیر اعلیٰ پنجاب ہوا کرتے تھے، یا اخبارات سے نکال کر ان کے اس دور کےدھواں دھار بیانات دیکھ لیجئے ۔ لگتا ہی نہیں کہ یہ موجودہ وزیر اعظم وہی ہیں جو بطور وزیر اعلیٰ پنجاب سلطان راہی کا سیاسی ورژن ہوا کرتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص بطور وزیر اعلی نہایت جرأت مند و برق رفتار تھا وہ بطور ویزر اعظم مریل اور نکما کیسے ہوگیا؟ ہمارا تو خیال تھا کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف اگر وزیر اعظم شہباز شریف بن گئے تو انہیں ان صلاحیتوں کے اظہار کا بھی موقع میسر ہوگا جو صرف اس منصب پر اظہار پا سکتی ہیں۔ لہٰذا بطور وزیر اعظم کار کردگی مزید بھرپور ہوگی۔ تو پھر ایسا کیا ہوا کہ لگتا ہی نہیں یہ وہی شہباز شریف ہیں؟

جواب بہت سادہ ہے۔ ہمیں ڈھونڈنا ہوگا کہ وہ کیا چیز ہے جو مسنگ ہے۔ کچھ تو ایسا ہے جس کے نہ ہونے سے بندہ ہیرو سے زیرو ہوا ہے۔ ہمارے نزدیک وہ مسنگ چیز نواز شریف ہیں۔ دنیا یہ سمجھتی رہی کہ پنجاب حکومت شہباز شریف چلا رہے ہیں۔ وہ ڈائیلاگ بازی اور انگلی لہرانے سے اس کا تاثر بھی روز قائم رکھتے تھے۔ لیکن آثار بتا رہے ہیں کہ فی الحقیقت وہ حکومت بھی مرکز سے نواز شریف ہی چلا رہے تھے۔ اس کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ آج نواز شریف نہیں ہیں تو وہی شہباز شریف مرکز میں بیٹھا نون لیگ کا عثمان بزدار ثابت ہو رہاہے۔

کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ 2008ء سے 2013ء کے مابین تو نواز شریف مرکز میں نہ تھے۔ مگر پھر بھی شہباز شریف کی کار کردگی پنجاب میں زبردست تھی۔ ہمارا جواب یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو متحرک اور کامیاب رکھنا نواز شریف کی اپنی سیاسی ضرورت تھی۔ سو نواز شریف رائیونڈ سے اس دور کی پنجاب حکومت چلاتے رہے۔ لیکن وزیر اعظم شہباز شریف کو متحرک اور کامیاب رکھنا نواز شریف کے لئے خسارے کا سودا ہو سکتا ہے لہٰذا انہوں نے چھوٹے کو اس کے حال پر چھوڑ رکھا ہے۔ اور صورتحال یہ ہے کہ چھوٹے کی جو بھی فوٹیج یا تصویر دیکھ لیں، چہرے پر ہوائیاں اڑتی ملیں گی۔

سو یہ بات بالکل واضح ہے کہ نواز شریف صورتحال کو اس قدرتی موڑ تک لے جانے کا پلان رکھتے ہیں جہاں ہر پٹواری یہ کہنے پر مجبور ہوجائے کہ میاں صاحب خدا کا واسطہ واپس آیئے ورنہ آپ کا چھوٹا سب کچھ برباد کردے گا۔ ہم شہباز کی کار کردگی نواز شریف کے کھاتے میں اس لئے ڈال رہے ہیں کہ ہمیں وزیر اعلیٰ نواز شریف کا دور یاد ہے۔ وہ دور جس میں پہلی بار کسی صوبائی حکومت نے ایسی کار کردگی دکھائی تھی کہ ہر طرف ڈھول پٹ گئے تھے۔ اور اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ بطور وزیر اعظم نواز شریف کے تینوں ادوار ایسے تھے جب لوگ گواہی دیتے تھے کہ انہیں کچھ نہ کچھ ملا ضرور ہے۔

لمحۂ موجود میں صورتحال یہ ہے کہ شہباز شریف کو کچھ کرنا نہیں آتا۔ اپنے  فعال ہونے اور کچھ کرنے کا بھرم قائم رکھنے کے لئے وہ ایک ہی کام دو شکلوں میں کرتے جا رہے ہیں۔ اور یہ کہ آنیاں جانیاں بہت لگا رکھی ہیں۔ یا تو وہ سیلاب سے متاثرہ مقامات کا دورہ کرتے ہیں یا پھر چین، سعودی عرب، عرب امارات اور ترکی میں سے کسی ایک ملک کا۔ وہ ان ممالک سے کیا لائے؟ کچھ پتہ نہیں۔ سیلاب متاثرین کو انہوں نے کیا دیا؟ کچھ نظر نہیں آتا۔ مگر نون لیگ نے ایک انتظام خوب کر رکھا ہے۔ وہ یہ کہ ان کی نالائقی کو لوگوں کی نظروں سے بچائے رکھنے کے لئے رانا ثناء اللہ کو مداری والا کردار دیدیا ہے۔

رانا ثناء اللہ کو دسواں مہینہ ہے یہ کہتے کہ وہ ابھی بندر کا ڈانس دکھائیں گے۔ مگر دکھا نہیں رہے۔ 29 نومبر 2022 سے قبل یہ عذر تراشتے رہے کہ بندر کو اندر سے سپورٹ حاصل ہے۔ یہ سپورٹ ختم ہوتے ہی ڈانس شروع ہوجائے گا۔

لوگوں نے 29 نومبر کے انتظار میں دن گننے شروع کر دئے۔ 29 نومبر گزر گئی تو مداری پریشان کہ اب کیا کیجئے؟ بلاول زرداری نے پارٹنرشپ کا حق ادا کرتے ہوئے کہہ دیا کہ فوج سے سپورٹ ختم ہوگئی مگر دوسرے اداروں سے ابھی ہے۔ ظاہر سے دوسرے اداروں سے واپڈا یا کے۔الیکٹرک نہیں بلکہ نام نہاد اعلیٰ عدلیہ ہی مراد ہے۔ گویا بندر کے ڈانس کی اب بھی کوئی امید نہیں۔

یوں ایک تو بندر کا ڈانس نہیں ہو رہا اوپر سے بندر عجیب عجیب اشارے کرکے چڑا بھی رہا ہے۔ مگر تماشا ختم بھی نہیں کیا جا رہا۔ کیونکہ چھوٹے کی وزیر اعظم بننے کی حسرت پوری ہونے میں 25 سال لگے ہیں۔ اور یہ چھوٹا بھی جانتا ہے کہ یہ صرف پہلی ہی نہیں بلکہ آخری باری بھی ہے۔ اگر آپ غور کیجئے تو پی ڈی ایم اور اس کی موجودہ حکومت ایک سرکس ہی ہے۔ جب جوش و خروش پیدا کرنا ہو تو مولانا فضل الرحمان ایکٹو ہو جاتے ہیں۔ ہر طرف پھیلتا ان کی آواز کا شور یہ تاثر دیتا ہے جیسے پی ڈی ایم کے مالک و مختار یہی ہیں۔ سیاسی داؤ پیج کا مرحلہ آتا ہے تو مولانا پیچھے ہو جاتے ہیں اور زرداری آگے آجاتے ہیں۔ اس کے بعد فیصلوں کا مرحلہ آئے تو ساری نظریں لندن پر لگ جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا کا دور ہے سو اس سرکس میں ان تینوں جماعتوں کے ورکرز کی ناچنے کی باری لگتی رہتی ہے۔ جب مولانا کچھ چٹ پٹا کہدیں تو ایک مہینے تک مولوی اچھلتے رہتے ہیں کہ دیکھا، ہمارے امام انقلاب نے کیا خوب فرمایا۔ اس کے بعد ایک مہینہ جیالوں کا ہوتا ہے جو ایک زرداری سب پہ بھاری کا ترانہ گانا شروع کردیتے ہیں۔ اور پھر ایک ماہ میاں دے نعرے وجنڑگے کا شور۔ مگر ہمیں ان کے ناچنے سے کیا غرض؟ ہمیں یا تو کھانا کھلائیے یعنی معیشت ٹھیک کیجئے یا پھر بندر کا ڈانس دکھایئے تاکہ بندر پر ہمارے غصے کا ادھار اترے۔ اگر نہ کھانا کھلا سکتے ہیں اور نہ ہی بندر کا ناچ دکھانے کا حوصلہ ہے تو پھر ہم جیسے وہ لوگ جن کا فضل الرحمان، زرداری اور نواز شریف سے نہ تو نسبی رشتہ ہے اور نہ ہی سسرالی، ایک سوال پوچھ سکتے ہیں اور وہ یہ کہ یہ سرکس کب ختم ہوگا؟

Related Posts