معاشی بحالی کا خواب اور سرکاری دعوے

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کیلئے معیشت کو سنبھالنا بڑا چیلنج بنا ہوا ہے، اس دوران خود وفاقی حکومت کے دعووں اور آئی ایم ایف کی جانب سے ردِ عمل نے صورتحال مزید گمبھیر کردی ہے۔

مثال کے طور پر پاکستانی میڈیا نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے یہ خبر شائع کی کہ آئی ایم ایف نے ہم سے رابطہ کیا اور ہم پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد کیلئے پر عزم ہیں تاہم عالمی مالیاتی ادارے نے واضح کیا کہ کال خود وزیر اعظم کی درخواست پر کی گئی تھی۔

بظاہر تو کال آئی ایم ایف کرے یا وزیر اعظم، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تاہم ایسی چھوٹی چھوٹی غلط فہمیاں معاشی صورتحال پر نئے بحران کو جنم دے سکتی ہیں۔ دوسری جانب اسحاق ڈار اپنی پرانی پالیسیوں پر گامزن ہیں اور ڈالر کو قابو کرنے کی مصنوعی کوششیں جاری و ساری ہیں۔

اسٹیک ہولڈرز نے وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانا شروع کردیا کہ ایکسچینج ریٹ پر مصنوعی کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں چھوڑیں جس کی وجہ یہ ہے کہ 3 قسم کے ایکسچینج ریٹس پیدا ہو گئے جنہیں ہم انٹر بینک، اوپن مارکیٹ اور گرے مارکیٹ کے نام سے جانتے ہیں جس سے معاشی عدم استحکام مزید بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد پاکستان کا دورہ شاید نہ کرے کیونکہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی پیشگی شرائط دونوں ہی فریقین کے علم میں ہیں۔ آن لائن مذاکرات بھی بے سود ثابت ہوں گے، حکومت کو آئی ایم ایف شرائط پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔

حال ہی میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ زرِ مبادلہ ذخائر 4 نہیں بلکہ 10 ارب ڈالرز ہیں۔ واجب الادا قرض وقت پر واپس کیا جارہا ہے۔ کمرشل بینکوں کے 6 ارب ڈالر بھی ریاستِ پاکستان کے ہیں۔ آئی ایم ایف وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں معاشی سرگرمیاں زرِ مبادلہ بحران کے باعث شدید متاثر ہیں جبکہ آج ہونے والی جنیوا کانفرنس میں پاکستان ڈیڑھ سے 2 ارب ڈالر غیر ملکی امداد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، جس میں کامیابی کی زیادہ امیدیں نہیں۔ سعودی عرب اور چین سے بھی امیدیں لگائی جارہی ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے اگلے اقتصادی جائزے کی تکمیل کیلئے کاوشیں جاری رکھے۔ توقع ہے کہ آئندہ ہفتے اقتصادی جائزے پر بات چیت میں مثبت پیشرفت ہوگی اور اگر جائزہ مکمل ہوا تو پاکستان آئی ایم ایف سے 1 ارب ڈالر کے لگ بھگ رقم کی وصولی کی توقع رکھتا ہے۔

بلاشبہ پاکستان کو آئندہ 3 ماہ یعنی جنوری سے مارچ تک 8 اعشاریہ 5 ارب ڈالرز قرض کی مد میں ادا کرنے ہیں، تاہم آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل کے ساتھ ہی دوست ممالک سے بھی امداد حاصل ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

 

Related Posts