بچے سیٹل کرنے کی سیاست

تازہ ترین

تازہ ترین

پچھلے آٹھ سال سے پی ٹی آئی پر ہماری شدید تنقید کے دو اسباب رہے ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ جماعت اسٹیبلیشمنٹ کی کٹھ پتلی رہی۔ اور دوسری یہ کہ جماعت کے سربراہ سے لے کر کارکن تک سب ہی نہایت ناروا لب و لہجے کا چلن رکھتے ہیں۔

اسی طرح نون لیگ کی حمایت کی بھی دو ہی وجوہات رہی ہیں۔ پہلی یہ کہ اس جماعت کی حکومتوں کی کار کردگی پاکستانی اقتدار کی تاریخ کی کسی بھی جماعت یا رجیم حکومت کی کارکردگی سے بہتر رہی ہے۔ اور دوسری یہ کہ اس جماعت کی قیادت بہت واضح طور پر مشرقی روایات کا پاس رکھنے والے خاندان کے پاس رہی ہے۔ ان دونوں ہی جماعتوں کی نسبت سے ان دو دو وجوہات میں سے اب ایک ایک وجہ یا تو ختم ہوچکی یا ختم ہونے کو ہے۔ مثلاً  پی ٹی آئی اب اسٹیبلیشمنٹ کی نمائندہ جماعت نہیں رہی۔ اگرچہ پرانی نوکری کے حصول کی جد و جہد جاری ہے مگر فی الحال یہ سیاسی طور پر یتیم ہی ہے۔ دوسری طرف نون لیگ کی حمایت کی ہماری پہلی وجہ بہت تیزی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ وہ کار کردگی جس کے ہم معترف تھے شہباز شریف حکومت میں نظر نہیں آرہی۔

نون لیگی حکومت میں اسحاق ڈار ہمیشہ وزیر اعظم کے بعد سب سے طاقتور رکن حکومت رہے ہیں۔ اور بلاشبہ کار کردگی کی بنیاد پر رہے ہیں۔ اس بار بھی جب وہ اچانک لندن سے پاکستان پہنچے تو صرف آمد کی خبر سن کر ہی ڈالر کی قدر سرنگوں ہونی شروع ہوگئی۔ اس کا اثر خود ڈار صاحب پر بھی یہ ہوا کہ جوش میں آکر بڑا بول ارشاد کر بیٹھے۔ ڈالر کی قیمت سو روپے سے نیچے لانے کا دعویٰ تو کر ڈالا مگر جب ایسا کرنے کا مرحلہ آیا تو ڈالر اس بار تا دم تحریر ان سے زیادہ طاقتور ثابت ہوا ہے۔ یہ شاید کوئی اچھی خبر دینے کا ہی شدید دباؤ تھا کہ چند روز قبل انہوں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے یہ اطلاع اور مبارکباد ساتھ ساتھ دی کہ مریم نواز نون لیگ کی سینئر نائب صدر بنادی گئی ہیں۔ اطلاع ہمارے لئے تھی اور مبارکباد مریم نواز صاحبہ کے لئے۔ ہمیں اس بات سے قطعاً  انکار نہیں کہ ڈار صاحب کے لئے یہ خاندانی خبر بہت اہم رہی ہوگی کہ شریف خاندان کے سمدھی جو ہیں۔ مگر ہم اپنے وزیر خزانہ سے جو اچھی خبر سننا چاہتے ہیں وہ خاندان نہیں، خزانے سے متعلق ہے۔

آپ حکومتی کار کردگی چھوڑئیے نون لیگ کی بطور پارٹی سیاسی کار کردگی کا پول بھی پنجاب میں کھل گیا ہے۔ جب پچھلے سال نومبر میں پی ٹی آئی سربراہ عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختون خوا کی صوبائی اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کیا تو نون لیگ نے چیلنج دیا تھا کہ وہ اس عزم کو پورا کرکے دکھائیں۔ عمران خان کی جانب سے وہ چیلنج قبول ہی نہیں ہوا بلکہ پنجاب اسمبلی آئینی طور پر ٹوٹ بھی چکی۔ رانا ثناءاللہ نون لیگ کی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا منظر دیکھنے پنجاب اسمبلی کی گیلری میں بیٹھے تھے مگر منظر انہیں ناکامی کا دیکھنا پڑ گیا۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ جواب یہ ہے کہ نون لیگ اندرونی کشمکش سے دوچار ہے۔ اس جماعت کی پہلی مشکل تو یہی ہے کہ اب اس میں تین تین وزیر اعظم موجود ہیں۔ وزارت عظمی کسی کا بھی پروفائل بدل کر رکھ دیتی ہے۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ شاہد خاقان عباسی 2017ء تک نون لیگ کے پنڈی گروپ کا ایک حصہ ہوا کرتے تھے۔ اب انہیں پنڈی گروپ سے منسوب ہونا اپنی توہین لگے گا۔ اب وہ باقاعدہ اپنا گروپ رکھتے ہیں۔ اور یہ پروفائل بڑا ہونے کا ہی نتیجہ تھا کہ ایک اجلاس میں ان کے رویے کی وجہ سے میاں نواز شریف کو اجلاس سے اٹھنا پڑ گیا۔ شاہد خاقان عباسی چپکے سے لندن کی معافی یاترا کر آئے مگر اپنے چہیتے مفتاح اسماعیل کو نہ بچا سکے۔ نون لیگ میں تیسرے وزیر اعظم میاں شہباز شریف ہیں۔ انہیں اپنے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنے فرزند کو سیٹل کرنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔ اور یہیں سے وہ تقسیم جنم لے لیتی ہے جو شریف خاندان کے اندر موجود ہے۔ بڑے میاں صاحب مریم نواز تو چھوٹے میاں حمزہ شہباز کا مستقبل کھرا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اگر بغور دیکھا جائے تو یہ صورتحال پاکستان کی تقریباً ہر سیاسی جماعت کے سربراہ کو درپیش ہے۔

پیپلز پارٹی میں بلاول نئی نسل کے لیڈر ہیں۔ ان کے قدم جمنے میں اگر کوئی کسر تھی تو وہ ان کی وزارت خارجہ نے پوری کردی ہے۔ مختصر مدت میں بطور وزیر خارجہ انہوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ خارجہ امور پر اپنے نانا اور والدہ محترمہ کی طرح ہی مضبوط گرفت رکھتے ہیں۔

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی اپنا ولی عہد سیٹل کرنے کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ ان کے فرزند مولانا اسعد محمود تاحال کوئی درمیانے درجے کا بھی اثر قائم نہیں کرسکے۔ شاید اسی لئے پارٹی ورکرز کا زور ان کی نمازوں کی تصاویر شیئر کرنے تک ہے۔ اس باب میں چوہدری پرویز الہٰی کا حال سب سے دلچسپ ہے۔ چیلنج انہیں مونس الہی کو سیٹل کرنے کا درپیش تھا مگر صورتحال یہ ہوگئی ہے مونس الہی مصر ہیں کہ وہ تو سیٹل ہیں البتہ اباجی کو سیٹ کرنے کی ضرورت ہے جو وہ کرکے رہیں گے۔ برخوردار کو سیٹل کرنے کا مرحلہ اے این پی کے اسفند یار ولی خان کو بھی درپیش ہے۔ ان کے برخوردار ایمل ولی خان اپنے حصے کی کئی بونگیاں داغ چکے مگر کوئی تنقیدی طور پر بھی انہیں توجہ نہیں دے رہا۔

سیاست کے اس کھیل میں مستقبل کے متوقع بڑے کھلاڑی بلاول زرداری، مریم نواز اور حمزہ شہباز ہی نظر آتے ہیں۔ بڑے اس معنی میں نہیں کہ بڑی صلاحیتوں کے مالک ہیں بلکہ اس معنی میں کہ بڑی میراث کے وارث ہیں۔ بلاول کا تو ہم ذکر کرچکے۔ مریم نواز کی صورتحال یہ ہے کہ ان کا اب تک کا کل تعارف یہ ہے کہ کراؤڈ پلر ہیں مگر سیاست میں کراؤڈ اکٹھا کرنا کُل نہیں جزو ہے۔ اس کراؤڈ کے دم پر جو سیاسی داؤ پیچ لڑانے ہوتے ہیں اس کا کوئی مشاہدہ تاحال مریم یا حمزہ کی نسبت سے دستیاب نہیں۔

بالخصوص حمزہ شہباز کی صورتحال تو بہت ہی مضحکہ خیز رہی ہے۔ وہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تھے اور وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار، مگر کیا کسی نے پنجاب کے حالیہ کھیل میں انہیں منظر پر دیکھا؟ وہ کسی نامعلوم غار میں بیٹھے انتظار فرماتے رہے کہ جب خاندان کے بزرگ پرویز الہٰی کو زیر کر لیں گے تو وہ نمودار ہوکر وزارتِ اعلیٰ سنبھال لیں گے۔ ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی ان کی نام نہاد وزارتِ اعلیٰ ختم ہوتے ہی خاموش ہوگیا تھا۔ مگر جوں ہی پرویز الہٰی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ گرم ہوا، ٹوئٹر پر اچانک ان کے اس آفس کی سرگرمیاں پھر شیئر ہونی شروع ہوگئیں جس کی سیٹنگ کسی ڈاکٹر کے کلینک کی طرز پر ہے۔ اور اب ایک بار پھر سناٹا ہے۔ ویسے ہم نے وزارتِ اعلیٰ دورانیے کا ان کا چند سیکنڈز کا ایک کلپ بھی دیکھ رکھا ہے جس میں یہ کسی عمارت سے نکلتے نظر آرہے ہیں، یقین جانئے فرعون دیکھنے کی خواہش پوری ہوگئی۔

ایسے میں ملک کی معاشی صورتحال سب کے سامنے ہے کہ نازک ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی ہر سابق آرمی چیف کی طرح فرما دیا ہے کہ ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ مگر قومی قیادت کے چلن سے لگ رہا ہے کہ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ بلاول زرداری، مریم نواز، حمزہ شہباز، مونس الہٰی، اسعد محمود اور ایمل ولی خان نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ سب کی توجہ اپنا اپنا بچہ سیٹل کرنے پر ہے۔ اب جب تک یہ بچے سیٹل نہیں ہوں گے، سیاسی قیادت کی پہلی ترجیح ملک نہیں بنے گا۔ یہ بچے سیٹل ہوں گے تو ہمارے بچوں کیلئے سستے دال آٹے کا امکان پیدا ہوگا۔ سو ہم نے تو طے کر لیا ہے کہ اگلے جمعہ امام صاحب کو چٹ بھیج کر درخواست کریں گے کہ ان بچوں کے جلد سیٹل ہونے کی دعا فرما دیں تاکہ قومی قیادت ملکی مسائل کے حل کی جانب متوجہ ہوسکے۔

Related Posts