اسلام آباد: صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کیلئے حکومت نے بہت محنت کی لیکن قرض سے گزارا نہیں ہوا کرتا۔ میرا پیغام ہے کہ ملک ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان کی سمت کے متعلق سب ایک ہی بات سمجھتے ہیں کہ میرا ملک مشکلات کا شکار ہے۔
آرمی چیف کا کراچی پولیس آفس کا دورہ،زخمی اہلکاروں کی عیادت
گفتگو کے دوران صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ مشکلات سے نکلنے کیلئے ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے اور مستقبل کے متعلق سوچتے ہیں کہ آگے کیا کرنا ہے۔ حکومت نے قرض کیلئے محنت کی۔
صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ہمیں اپنے آپ کو سنبھالنا ہوگا جبک یہ ملک دو اور دو چار سے ہی ٹھیک ہوسکتا ہے۔ ساری دنیا میں شور ہے کہ بدعنوانی ہوئی تاہم کرپشن کے خاتمے کیلئے کام نہیں ہورہا۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ لوگوں کے بینک اکاؤنٹس میں اربوں آئے، میرے خیال میں لٹیروں کا مافیا بدعنوانی کے خلاف کارروائی نہیں ہونے دیتا۔ آپ نیب کے ذریعے کچھ کررہے تھے تاہم وہ سب سیاست کی نذر ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے فرسودہ قوانین کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ملک میں معافی کا رجحان نہیں، سیاستدان ایک دوسرے پر مقدمات بناتے ہیں۔ قانون بعد میں دیکھ کر زبردستی لاگو کیا جاتا ہے، گرفتاری پہلے ہوجاتی ہے۔
الیکشن کمیشن پر تنقید
نجی ٹی وی پروگرام میں صدرِ مملکت نے کہا کہ الیکشن کیلئے بھی حیلے بہانے تلاش کیے جارہے ہیں۔ مجھے الیکشن کمیشن کو خط لکھنا پڑا کہ آئین کی پاسداری کریں۔ آئین کے اندر سوراخ تلاش مت کرو۔
پروگرام میں صدر عارف علوی نے کہا کہ انتخابات کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے میرے خط کا جواب تک نہیں دیا۔ الیکشن کی تاریخ دینے سے جرمانہ تو نہیں ہو جائے گا۔ الیکشن سے لوگ سمجھا دیتے ہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








